رسائی کے لنکس

سمندری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستانی بحریہ کی مشقیں


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ اقتصادی راہداری کے منصوبے کو درپیش مختلف خطرات کے باوجود اس کی تکمیل اور تحفظ کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان کی سمندری سلامتی کے تحفظ کو درپیش کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے بحری فوج نے جنوب مغربی صوبے بلوچستان کی ساحلی پٹی میں بھرپور مشقیں کی ہیں۔

پاکستانی بحریہ معمول کے مطابق مشقیں تو کرتی رہتی ہے لیکن اورماڑہ کے علاقے میں کی جانے والی "تحفظ ساحل" نامی ان مشقوں کا محور خاص طور پر گوادر کی بندرگاہ کی سلامتی اور چین پاکستان اقتصادی راہداری سے وابستہ منصوبوں کے لیے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت کو جانچنا تھا۔

بحریہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ اس میں اسپیشل آپریشنل فورسز، پاکستانی میرینز، بحری جہازوں اور ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا۔

اربوں ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو خطے کی قسمت بدل دینے والا منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے جس کے تحت چین کے علاقے کاشغر سے پاکستان کے ساحلی علاقے گوادر تک مواصلات، بنیادی ڈھانچے اور صنعتوں کا ایک جال بچھایا جانا ہے۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ اقتصادی راہداری کے منصوبے کو درپیش مختلف خطرات کے باوجود اس کی تکمیل اور تحفظ کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔

سینیئر تجزیہ کار رسول بخش رئیس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ساحل کی یہ پٹی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے جس کے تحفظ کے لیے ہر صورت کوششیں جاری رکھنا ہوں گی اور ایسے میں جب یہ علاقہ اور اہمیت کا حامل ہوگیا ہے تو اپنی حکمت عملی کا جائزہ لینا اور بھی ضروری ہے۔

گزشتہ ماہ ہی پاکستانی بحریہ نے بتایا تھا کہ گوادر کے ساحل کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اس کی نگرانی کا عمل بڑھایا جا رہا ہے اور اس ضمن میں محافظوں کی ایک خصوصی بٹالین بھی تیار کر لی گئی ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ گوادر اور اقتصادی راہداری کے منصوبوں سے وابستہ افراد خصوصاً چینی شہریوں کے تحفظ کو ہر ممکن طریقے سے یقینی بنایا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG