رسائی کے لنکس

روہنگیا مسلمانوں کی مدد سے متعلق تجاویز کے لیے کمیٹی قائم


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سینیئر تجزیہ کار اکرام سہگل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرسکتا ہے اور اسے چاہیئے کہ وہ تمام متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر اس معاملے کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرے۔

میانمار جسے برما بھی کہا جاتا ہے، میں روہنگیا نسل سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں پر مقامی بدھ آبادی کی طرف سے ہونے والے امتیازی اور مبینہ غیر انسانی سلوک اور اس بابت حکومت کی خاموشی پر امریکہ اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کی طرف سے تنقید اور روہنگیائی آبادی کی حالت زار پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے جو ان افراد کی فوری مدد کے علاوہ اس مسئلے کے حل سے متعلق تجاویز مرتب کرے گی۔

اس کمیٹی میں وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان، مشیر خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز اور معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی شامل ہیں۔

چودھری نثار نے اپنے ایک بیان میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کا نوٹس لے۔ میانمار ان افراد کو غیر قانونی تارکین وطن قرار دے کر اپنا شہری تسلیم نہیں کرتا اور اس کے بقول یہ لوگ بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ ڈھاکا انھیں برما کا شہری قرار دے کر اپنا پلہ چھڑاتا آ رہا ہے۔

روہنگیائی آبادی پر حالیہ برسوں میں بدھ مت کے پیروکاروں کی طرف سے ہلاکت خیز حملے بھی ہوئے جنہیں ایک مبینہ نسل کشی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

عالمی برادری کی طرف سے پہلے پہل تو اس جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی لیکن حالیہ ہفتوں میں ہزاروں کی تعداد میں ان افراد کے دوسرے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی طرف رخ کرنے اور خاص طور پر ہزاروں کی تعداد میں سمندر میں کشتیوں پر محصور ہو جانے کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس معاملے پر آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں۔

سینیئر تجزیہ کار اکرام سہگل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے اور اسے چاہیئے کہ وہ تمام متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر اس معاملے کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرے۔

"پاکستان میڈیا کے ذریعے، سفارتی ذرائع سے برما پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے اور پھر میرا خیال ہے جو آسیان ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات اگر ان ملکوں کے ساتھ بھی مل کر بھرپور کوشش کی جائے تو ان لوگوں کا کچھ نہ کچھ تو ہو سکتا ہے۔"

امریکہ کی طرف سے اس معاملے کو لے کر میانمار پر کڑی تنقید کی جا چکی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ میانمار روہنگیا آبادی کے ساتھ اپنے شہریوں جیسا سلوک کرے۔

اکرام سہگل کہتے ہیں کہ جب تک اس مسئلے کا کوئی دیرپا حل نہیں نکلتا ان افراد کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے امن یا مبصر مشن کو بھی روہنگیا کے علاقوں میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG