رسائی کے لنکس

پاکستان اور بھارت مذاکرات ہی کے ذریعے آگے بڑھ سکتے ہیں: نواز شریف


امریکی سینیٹرز کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات

امریکی سینیٹرز کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات

وزیراعظم کی امریکی سینیٹ کے دو رکنی وفد سے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کے علاوہ بھارت کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور بھارت صرف مذاکرات ہی کے ذریعے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

اُنھوں نے یہ بات پیر کو امریکہ کی سینیٹ کے دو رکنی وفد نے سے ملاقات میں کہی جس میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق سینیٹر ٹم کین اور سینیٹر آنگس کنگ سے ملاقات میں بھارت کے ساتھ ورکنگ باؤنڈری اور کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری کے حالیہ واقعات کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے امریکی وفد کو بتایا کہ پاکستان اور بھارت مذاکرات ہی کے ذریعے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھارت کی طرف سے سیکرٹری خارجہ سطح کے دو طرفہ مذاکرات کی منسوخی پر مایوسی اظہار بھی کیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان 25 اگست کو اسلام آباد میں خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات ہونا تھے جنہیں بھارت نے منسوخ کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ اتوار کو پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و امور خارجہ سرتاج عزیز نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو ایک خط لکھا تھا، جس میں انھیں متنازع علاقے کشمیر میں حد بندی لائن پر بھارت کی طرف سے فائر بندی کی مبینہ خلاف ورزی کے واقعات سے آگاہ کیا گیا۔

پاکستان اور بھارت اس ماہ کے اوائل سے ایک دوسرے پر فائربندی کے معاہدے کی خلاف ورزی میں پہل کرنے کا الزام عائد کرتے آرہے ہیں، جب کہ فائرنگ کے تبادلے سے اب تک دونوں جانب 20 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔

پیر کو ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم نواز شریف نے امریکہ کی طرف سے پاکستان میں دو بڑے آبی ذخائر بھاشا اور داسو ڈیموں کی حمایت پر امریکی وفد کا شکریہ بھی ادا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں پاکستان تجارت کو اہم سمجھتا ہے، اُنھوں نے کہا کہ امریکی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کو بہتر رسائی دی جائے۔

اس سے قبل امریکہ کی سینیٹر ٹم کین اور سینیٹر آنگس کنگ نے وزارت خارجہ میں وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز سے ملاقات کی۔

سرکاری بیان کے مطابق سرتاج عزیز نے حکومت پاکستان کی طرف سے بہتر نظام حکومت اور معاشی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات سے بھی امریکی وفد کو آگاہ کیا۔

اُنھوں نے پڑوسی ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کے بارے میں پاکستانی حکومت کے موقف سے بھی امریکی وفد کا آگاہ کیا اور لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔

بیان کے مطابق امریکی سینیٹرز نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ اس مسئلے کے دیرپا حل کے لیے دہشت گردی کی وجوہات کو بھی دور کرنے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG