رسائی کے لنکس

تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد نواز شریف نے ایوان سے اپنے افتتاحی خطاب میں ملک کے قبائلی علاقوں میں ہونے والے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف تیسری مرتبہ ملک کے وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔

گیارہ مئی کے انتخابات میں کامیابی کے بعد 63 سالہ نواز شریف کی تقریباً تیرہ سال آٹھ ماہ بعد پارلیمانی سیاست میں واپسی ہوئی اور وہ بدھ کو قائد ایوان منتخب ہوئے، جس کے بعد انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہو گیا۔

وزیراعظم منتخب ہونے کے لیے 342 اراکین کے ایوان میں 172 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے تاہم نواز شریف کو 244 ووٹ ملے جب کہ اُن کے مد مقابل پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم کو 42 اور تحریک انصاف کے مخدوم جاوید ہاشمی کو 31 ووٹ ملے۔

اپنے انتخاب کے بعد نواز شریف نے ایوان سے خطاب میں ملک کے قبائلی علاقوں میں ہونے والے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

’’
ڈرون حملوں کا یہ جو روز روز کا سلسلہ ہے، یہ باب اب بند ہونا چاہیئے۔
ہم دوسروں کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں، لازم ہے دوسروں پر بھی کہ وہ ہماری سالمیت کا بھی احترام کریں۔ یہ نہیں کہ ہم کرتے جائیں اور ہماری کوئی پرواہ نا کرے، کئی سالوں سے یہ جو سلسلہ چل نکلا ہے بند ہونا چاہیئے۔‘‘

اُنھوں نے اپنے ابتدائی خطاب میں ملک کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حل کے لیے اُُن کی حکومت تمام توانائی صرف کرے گی۔

’’میں کسی خیالی جنت کا نقشہ پیش نہیں کروں گا، لیکن میں پوری قوم کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ پاکستان اور عوام کی تقدیر بدلنے کے لیے نا خود چین سے بیٹھوں گا اور نہ اپنی ٹیم کو چین سے بیٹھنے دوں گا۔‘‘

نواز شریف نے کہا کہ اُن کی حکومت صرف اہل لوگوں کو ہی اہم عہدوں پر تعینات کرے گی اور کسی صورت بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔

’’میری حکومت کسی قسم کی کرپشن برداشت نہیں کرے گی، بدعنوانی کا ارتکاب کرنے والوں کو سخت احتساب کا سامنا کرنا ہو گا، آج سے ہم نے اقربا پروری اور بے جا نوازشات کا باب بند کر دیا ہے۔‘‘

وزارت عظمٰی کے لیے پیپلز پارٹی کے اُمیدوار امین فہیم نے نواز شریف کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم کسی بھی غلط فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے، لیکن جو فیصلہ حکومت پاکستان کے عوام کے حق میں ہو گا اس پر ہم بھرپور تعاون کریں گے۔‘‘

تحریک انصاف کے مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی کچھ ایسے ہی تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی جماعت بھی ہر اچھے اقدام پر حکومت کا ساتھ دے گی۔

’’جہاں دیکھیں گے کہ معاملات ٹھیک نہیں چل رہے، ہم سخت سے سخت تنقید کرنے والوں میں سے ہوں گے۔‘‘


تاہم نواز شریف نے اپنے افتتاحی خطاب میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ ملک کو درپیش چیلنجوں سے نکالنے کے لیے وہ ایوان میں موجود تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

بدھ کی شام ہی ایوان صدر میں ہونے والی ایک تقریب میں صدر آصف علی زرداری نے نواز شریف سے وزارت عظمیٰ کا حلف لیا۔ نواز شریف 1990 اور 1997 میں بھی ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔

نواز شریف ملک کے پہلے سیاستدان ہیں جنہوں نے تیسری مرتبہ وزارت عظمٰی کا منصب سنبھالا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG