رسائی کے لنکس

ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دعا گو ہیں کہ یہ مذاکرات آئین پاکستان کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہوں۔

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے طالبان شدت پسندوں سے مذاکرات شروع کر دیے گئے ہیں۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کو لندن میں نائب برطانوی وزیر اعظم نک کلیگ سے ملاقات میں کہی۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دعا گو ہیں کہ یہ مذاکرات آئین پاکستان کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسی صورت حال میں مزید انتظار نہیں کر سکتی جب معصوم شہری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار پاکستان کی گلیوں میں مر رہے ہوں۔

سرکاری بیان میں طالبان سے مذاکرات کے آغاز سے متعلق مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت انسداد دہشت گردی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو پاکستان سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مکمل طور پر قابل بنانے پر کام کرتی رہی ہے اور استعداد کار میں یہ اضافہ انتہا پسندی سے نمٹنے کے مختلف طریقوں میں سے ایک تھا۔

نواز شریف کی حکومت کی طرف سے ستمبر میں بلائی گئی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی کانفرنس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے شدت پسندوں سے مذاکرات کیے جائیں۔

طالبان سے مذاکرات کے آغاز سے متعلق بیان سے قبل لندن ہی میں جمعرات کو وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اُن کی حکومت شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

’’ہماری کوشش یہ ہے کہ جب سے ہم نے حکومت سنبھالی ہے کہ ہم یہ ہلاکتیں روکیں یہ خون خرابہ روکیں، لوگوں کے جان و مال کا جو ضیاع ہوتا ہے ہم اُس کو روکیں، پاکستانی قوم کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے ہم اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘‘

اُدھر اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو طالبان سے مذاکرات کے عمل سے آگاہ کیا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی اس کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کی تھی جس میں شدت پسندی کے مسئلے سے
نمٹنے کے لیے طالبان سے مذاکرات پر اتفاق کیا گیا تھا۔

جنرل کیانی نے حال ہی میں فوج کے افسران کی ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ آرمی طالبان سے مذاکرات کے حق میں ہے لیکن اُن کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی بھی عمل آئین میں رہتے ہوئے ہی کیا جانا چاہیئے۔

وزیراعظم نواز شریف کی حکومت دہشت گردی اور شدت پسندی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس ایجنسیوں اور دیگر متعلقہ اداروں کی استعداد کار بڑھانے سمیت قوانین کو موثر بنانے پر بھی کام کر رہی ہے۔

حال ہی میں تحفظ پاکستان آرڈیننس پر بھی وزیراعظم نے پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خط لکھ کر کہا تھا کہ وہ اس قانون کی منظوری میں اپنا کردار ادا کریں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس کا مقصد خاص طور پر ان دہشت گردوں سے نمٹنا ہے جو پاکستانی ریاست اور عوام کےخلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG