رسائی کے لنکس

بلوچستان، پاکستان کی خوشحالی کا منبع ہے: وزیراعظم


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ حکومت ملک کو درپیش کسی بھی مسئلے سے غافل نہیں اور اس نے گیس اور بجلی کی قلت کو ختم کرنے سمیت متعدد بین الاقوامی منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔

وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک خوشحال ملک بنانے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور پوری قوم کی تائید ہی سے خوشحالی کے مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

بدھ کو بلوچستان کے شمالی ضلع ژوب میں چین، پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے مغربی روٹ میں شاہراہوں کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت ملک کو درپیش کسی بھی مسئلے سے غافل نہیں اور اس نے گیس اور بجلی کی قلت کو ختم کرنے سمیت متعدد بین الاقوامی منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔

"مجھے پورا یقین ہے کہ یہ منصوبے تیزی کے ساتھ مکمل ہوں گے۔ مل کر اس ملک کی ترقی کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانا ہے۔ پاکستان کو ایک خوشحال ملک بنانے (کا مقصد) ہم مل کر حاصل کر سکتے ہیں۔۔۔میں اکیلا بطور وزیراعظم حاصل نہیں کرسکتا جب تک آپ سب میرے ساتھ شامل نہ ہوں جب تک کہ پوری قوم کی تائید حاصل نہ ہو۔"

انھوں نے اقتصادی راہداری کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے غربت کا خاتمہ ہو گا اور خوشحالی آئے گی اور اس میں بلوچستان کا بہت اہم کردار ہے۔

"یہ منصوبہ پورے خطے کو کھولے گا، یہاں بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا، پسماندگی کا خاتمہ ہو گا اور اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے اندر خوشحالی آئے گی اور میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ بلوچستان اس کا منبہ ہے اور پاکستان کی خوشحالی اسی خطے (بلوچستان) سے شروع ہوگی۔"

بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال لیکن ملک کا پسماندہ ترین صوبہ ہے۔ چین کے شہر کاشغر سے لے کر پاکستان کے شہر گوادر تک چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت اس صوبے میں مواصلات، بنیادی ڈھانچے اور صنعتوں کا جال بچھایا جانا شامل ہے۔

اکثر قوم پرست اور حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے حکومت کو یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کہ وہ اس منصوبے کے مغربی روٹ پر توجہ دینے کی بجائے مشرقی حصے کو ترجیح دے رہی ہے جس کا فائدہ دیگر صوبوں کی نسبت پنجاب کو ہو گا۔

تاہم حکومتی عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ چین اس منصوبے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اس کی مشاورت سے منصوبے کے مختلف حصوں پر کام شروع کیا جاتا ہے اور حکومت اس منصوبے کو کسی ایک نہیں بلکہ تمام صوبوں کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند بنائے گی۔

XS
SM
MD
LG