رسائی کے لنکس

مریضوں میں 20 فیصد کو دست واسہال کی شکایت

  • حسن سید

آفات سے نمٹنے کے لیے قائم وفاقی ادارے این ڈی ایم اے کے سربراہ ندیم احمدکا کہنا ہے کہ حکومت اپنی امدادی تنظیموں کے ساتھ مل کر سیلاب زدگان کو پینے کے صاف پانی کی زیادہ سے زیادہ فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن یہ ایک مشکل چیلنج ہے کیونکہ متاثرین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت سیلاب متاثرین میں بیماریوں کے جتنے بھی کیس سامنے آ رہے ہیں ان میں سے 20 فیصد سے زائد دست اوراسہال کا شکار ہیں جو ایک تشویش ناک امر ہے کیونکہ پینے کا صاف پانی نہ ملنے سے یہ بیماری ایک وبا کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سیلاب زدگان کی مدد کےلیےاب نجی شعبہ بھی سرگرم ہو رہا ہےاور ملک ایک بڑے نجی بینک’’یو بی ایل‘‘ نے اس میں پہل کرتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیےاین ڈی ایم اے کو پانی صاف کرنے کے پانچ ہزار فلٹر دیے ہیں جن کی مدد سے اگلے تین سالوں تک متاثرین یورپی ساخت کے اس آلے کے ذریعے صاف پانی پی سکیں گے۔

بین کے سربراہ ندم احمد کو سیلاب زدگان کے لیے واٹر فلٹر عطیہ کررہے ہیں

بین کے سربراہ ندم احمد کو سیلاب زدگان کے لیے واٹر فلٹر عطیہ کررہے ہیں

ندیم احمد کے مطابق بینک نے ایک عالمی اپیل بھی جاری کی ہے جس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور دوسرے افراد پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس کی ویب سائٹ پر جا کے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے اپنی رقم عطیہ کر سکتے ہیں جو سیلاب زدگان کے لیے مزید فلٹرز فراہم کرنے پر خرچ ہوگی ۔

واضح رہے کہ ماہرین کے مطابق اس وقت سیلاب زدگان کی زندگیوں کو سب سے زیادہ خطرہ آلودہ پانی پینے سے ہی لاحق ہے اوران کا کہنا ہے کہ اگر اس پر خاص توجہ نہ دی گئی تو ہلاکتوں کی ایک اور لہر کے امکانات موجود ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ این ڈی ایم اے کی نگرانی میں کام کرنے والے عالمی اور ملکی اداروں کے درمیان روابط کا فقدان نظر آتا ہے اور نظم وضبط کی کمی کی وجہ سے بہت سے کمزور یا معمر افراد امداد کے حصول سے محروم رہ جاتے ہیں۔

اس تنقید کے بارےمیں ندیم احمد کا کہنا تھا کہ امداد کے مستحقین زیادہ اور تقسیم کرنے والے کم ہیں ۔ان کے مطابق یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کا لیے ضلعی سطح پر حکمت عملی وضع کی جانی چائیے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جو بھی ادارے کہیں بھی کام کر رہے ہیں وہ اس ضلع کی مقامی انتظامیہ سے ضرور اشتراک عمل قائم رکھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ستمبر کے پہلے ہفتے تک امریکہ سے مزید 16 ہیلی کاپٹر پاکستان پہنچ کر ریلیف کے آپریشن میں شامل ہو جائیں گے جس سے ان کے مطابق امداد کی تقسیم میں وسائل کی کمی بہت حد تک پوری ہو سکے گی ۔

امریکہ کی طرف سے بھیجے گئے تقریبا 20 ہیلی کاپٹر پہلے ہی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تاہم اس کے عہدیداروں کی طرف سے فوری طور پر مزید 16 ہیلی کاپٹر بھیجے جانے کے تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG