رسائی کے لنکس

صدر کے دستخط کے بعد تحفظ پاکستان قانون نافذ العمل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومین رائٹس واچ ’ایچ آر ڈبلیو‘ نے تحفظ پاکستان قانون پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت اسے واپس لے۔

حقوق انسانی کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کے خدشات و تحفظات کے باوجود صدر ممنون حسین نے دہشت گردی سے نمٹنے کے تحفظ پاکستان قانون پر دستخط کر دیئے ہیں۔

یہ قانون دو سال کے لیے نافذ العمل ہو گا۔

رواں ماہ کے اوائل میں بعض ترامیم کے بعد پہلے ایوان بالا یعنی سینیٹ اور اُس کے بعد قومی اسمبلی نے اس قانون کے مسودے کی منظوری دی تھی۔

ملک میں دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم سے نمٹنے کے لیے یہ قانون متعارف کروایا گیا ہے۔

اس قانون کے تحت پارلیمان، عدلیہ اور انتظامیہ پر حملے سمیت ملک کی تنصیبات کو نشانہ بنانے ایسے اقدام ملک کے خلاف جنگ اور سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوں گے۔

ایسے سنگین جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی جن کے فیصلوں کے خلاف ملزم تیس روز میں ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر سکے گا جب کہ استغاثہ، گواہوں اور خصوصی عدالت کے ججوں کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات بھی اس قانون میں تجویز کیے گئے ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومین رائٹس واچ ’ایچ آر ڈبلیو‘ نے تحفظ پاکستان قانون پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت اسے واپس لے۔

ہومین رائٹس کمیشن آف پاکستان ’ایچ آر سی پی‘ نے بھی اس قانون پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ محض شک کی بنیاد پر بعض افراد کے خلاف اس قانون کے غلط استعمال کے امکانات موجود ہیں۔

تاہم حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ ملک کو درپیش موجودہ چیلنجوں کے تناظر میں ایسے قانون کی ضرورت تھی۔ وزیرمملکت برائے پارلیمانی اُمور شیخ آفتات احمد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کہا کہ اس قانون سے بے گناہ لوگوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔

’’یہ قانون صرف دو سال کے لیے ہے، اگر حالات پرامن ہو جاتے ہیں تو پھر یہ قانون دو سال کے بعد خود بخود ختم ہو جائے گا۔۔۔۔ کوئی حکومت نہیں چاہتی کے اپنے شہری کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی کرے لیکن ایک اچھے شہری کی جان، مال و عزت کی حفاظت کی ذمہ داری بھی تو حکومت ہی کی ذمہ داری بنتی ہے۔‘‘

تحفظ پاکستان قانون کے تحت سکیورٹی کے ادارے بغیر وارنٹ کے کسی بھی مشکوک جگہ کی تلاشی بھی لے سکیں گے۔

نئے قانون کے تحت موبائل فون، ای میلز، رابطوں یا پیغامات کا ریکارڈ بطور شہادت قبول ہو گا۔ حکام کے مطابق اب ان شواہد کے قابل قبول ہونے کے بعد دہشت گردوں کو عدالتوں سے سزائیں دلوانے میں آسانی ہو گی۔

اس قانون میں مقامی دہشت گردوں اور عام ملزمان سے نمٹنے کے لیے الگ الگ طریقے تجویز ہیں جب کہ غیر ملکی دہشت گردوں یا جرائم پیشہ عناصر سے الگ انداز میں نمٹا جائے گا۔

سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی کہتے ہیں کہ یہ قانون ضروری تھا تاہم اُن کا ماننا ہے کہ اس کا درست استعمال ضروری ہے۔

’’اگر یہ درست طریقے سے استعمال ہوا تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔۔۔۔ جو کچھ اس میں (قانون) میں ہے وہ ساری ضروری (چیزیں) ہیں اوراب صرف فرق یہ ہے کہ آیا استعمال کس طرح ہوگا، اگر ان کو صحیح حالات میں استعمال کیا گیا تو فائدہ ہو گا اور اگر اس کا صحیح استعمال نہ ہوا تو نقصان ہو گا۔‘‘

تحفظ پاکستان قانون 2014ء کے تحت سکیورٹی فورسز کسی بھی ملزم کو بغیر مقدمہ درج کیے ساٹھ دنوں تک اپنی حراست میں رکھ سکیں گی جب کہ قانون نافذ کرنے والےاداروں کے گریڈ 15 سے اوپر کا کوئی بھی افسر مشکوک شخص پر گولی چلانے کا حکم دے سکے گا، تاہم تحقیقات کے دوران اُس افسرکو گولی چلانے کے حکم کی دلیل یا معقول وجہ بتانا ہو گی۔

XS
SM
MD
LG