رسائی کے لنکس

غیر ملکی امداد کے حصول کے لیے حکومت کی منظوری ضروری: بلیغ الرحمٰن


ایک روز قبل ہی مقامی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ تقریباً ایک درجن سے زائد مسلم اور غیر مسلم ممالک پاکستان کے بڑے صوبے پنجاب میں لگ بھگ ایک ہزار مدرسوں کو مالی اعانت فراہم کر رہے ہیں۔

پاکستان میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے علاوہ انھیں ملنے والی غیر ملکی مالی اعانت سے متعلق سوالات تو کافی عرصے سے اٹھتے رہے ہیں لیکن گزشتہ دسمبر میں پشاور اسکول پر ہوئے مہلک دہشت گرد حملے کے بعد وضع کردہ قومی لائحہ عمل کے تحت حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں کسی بھی طرح کی غیر ملکی مالی اعانت سرکار کے علم میں لاکر اور باقاعدہ اجازت کے بعد ہی حاصل کی جاسکے گی۔

خاص طور پر مذہبی تعلیمی اداروں کو ملنے والی غیر ملکی رقوم کے بارے میں وزیرمملکت برائے امور داخلہ بلیغ الرحمن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستان میں مدارس کی تقریباً تمام بڑی نمائندہ تنظیموں نے اس ضمن میں حکومت سے مکمل تعاون کی یقیین دہانی کروائی ہے۔

"ہمارے جو قواعد ہیں اس میں بڑا واضح ہے کسی بھی قسم کی غیر ملکی فنڈنگ کی پہلے اجازت لینا ضروری ہے۔۔۔ پاکستان میں موجود مدارس کی تمام تنظیموں کی طرف سے مثبت اشارہ ملا ہے وہ تعاون کر رہے ہیں اور قومی لائحہ عمل کی تائید کر رہے ہیں۔"

حالیہ ہفتوں میں پاکستان میں مذہبی تعلیمی اداروں کو اپنے مسلک کے پرچار کے لیے رقوم دینے کے حوالے سے مختلف ملکوں کے نام سامنے آتے رہے ہیں جن میں سعودی عرب کا نام بھی لیا گیا اور پاکستان کے قریبی دوست ملک ہونے کے ناطے اس طرح کی خبروں میں سعودی عرب کا تذکرہ ایک غیر معمولی بات تھی۔

اس معاملے کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد میں سعودی سفارتخانے کو ان خبروں کی تردید کے لیے بیان جاری کرنا پڑا۔

بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب پاکستانی وزارت خارجہ سے منظوری کے بعد ہی رقوم بھیجتا ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ملک میں قائم دینی مدارس میں سے نوے فیصد سے زائد کا دہشت گردی و انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہیں اور جن کے بارے میں ایسے شواہد ہوں گے صرف ان کے خلاف ہی کارروائی کی جائے گی۔

ایک روز قبل ہی مقامی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ تقریباً ایک درجن سے زائد مسلم اور غیر مسلم ممالک پاکستان کے بڑے صوبے پنجاب میں لگ بھگ ایک ہزار مدرسوں کو مالی اعانت فراہم کر رہے ہیں۔

اس بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ مزید تفصیلات اور شواہد جمع کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔

اگرچہ موجودہ حکومت اور ماضی کی حکومتیں طویل عرصے سے مدارس میں اصلاحات کے لیے کوششیں کرتی رہی ہیں لیکن اُنھیں اس ضمن کوئی نمایاں کامیابی حاصل نا ہو سکی۔

تاہم اب اس سلسلے میں حکام نے کام کو تیز کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن ابھی اس بارے میں عمل درآمد ہونا باقی ہے۔

XS
SM
MD
LG