رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان: فضائی کارروائی میں کم از کم 25 مشتبہ دہشت گرد ہلاک

  • شمیم شاہد

فائل

فائل

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں کی گئی فضائی کارروائی میں ہلاکتوں کی تعداد 30 سے زائد بتائی گئی اور مقامی ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ مرنے والوں میں غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جمعہ کو فوج کی فضائی کارروائی میں کم از کم 25 مشتبہ دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق اس کارروائی میں شدت پسندوں کے دو ٹھکانے بھی تباہ ہوئے۔ تاہم اس فضائی کارروائی کے بارے میں سرکاری طور پر مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں کی گئی فضائی کارروائی میں ہلاکتوں کی تعداد 30 سے زائد بتائی گئی اور مقامی ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ مرنے والوں میں غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہیں۔

فضائی کارروائی میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے کیوں کہ جہاں مشتبہ شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا وہاں تک میڈیا کے نمائندوں کی رسائی نہیں۔

پاکستانی فوج نے 15 جون 2014ء کو شمالی وزیرستان میں مقامی اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا تھا۔

جب کہ ایک اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں بھی دہشت گردوں کے خلاف ’خیبر ون‘ اور پھر ’خیبر ٹو‘ کے نام سے فوجی آپریشن کیے گئے۔

شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو فضائیہ کی مدد سے بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

حکام کے مطابق شمالی وزیرستان کے نوے فیصد سے زائد علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کروایا جا چکا ہے۔ تاہم اب بھی شمالی وزیرستان کی وادی شوال کے دشوار گزار علاقوں میں چند ایک جگہوں پر دہشت گرد موجود ہیں جن کے خاتمے کے لیے فضائی اور زمینی کارروائی جاری ہے۔

پاکستانی فوج کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سال میں 3400 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

دہشت گردوں کے خلاف شروع کی گئی کارروائیوں کے بعد پاکستان میں امن و امان کی صورتحال ماضی کی نسبت بہتر ہوئی ہے لیکن اب بھی دہشت گرد اکا دکا کارروائیاں کرتے رہتے ہیں جنہیں حکام شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا ردعمل قرار دیتے ہیں۔

پاکستانی عہدیدار اپنے حالیہ بیانات میں یہ کہتے رہے ہیں کہ ملک میں اگرچہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے لیکن اب بھی خطرہ بدستور موجود ہے۔

XS
SM
MD
LG