رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان: جھڑپوں میں 33 مشتبہ شدت پسند ہلاک

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اطلاعات کے مطابق فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس میں پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور کم از کم 25زخمی ہوئے۔ سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے

افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں کم ازکم 33 مشتبہ شدت پسند ہلاک اور اُن کے متعدد ساتھی زخمی ہو گئے ہیں۔

عسکری ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان ہی کے علاقے کجھوری میں بدھ کی شام ہونے والے خودکش بم حملے میں زخمی اہلکاروں کو قریبی فوجی مرکز منتقل کیا جا رہا تھا کہ گھات لگائے عسکریت پسندوں نے قافلے پر فائرنگ کر دی جس پر سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کا آغاز کیا ۔

اطلاعات کے مطابق فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس میں پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور کم از کم 25زخمی ہوئے۔ سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستان کے اس قبائلی علاقے تک ذرائع ابلاغ کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے آزاد ذرائع سے جانی و دیگر نقصانات کی تصدیق تقریباً نا ممکن ہے۔

مقامی قبائلیوں کے مطابق جمعرات کی صبح بھی سکیورٹی فورسز نے میرعلی اور دیگر محلقہ علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیا۔ اطلاعات کے مطابق فورسز کی گولہ باری سے میرعلی بازار میں واقع ایک ہوٹل اور بعض مکانات کو بھی نقصان پہنچا تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

شمالی وزیرستان کے علاقے کجھوری اور میر علی میں اس کشیدگی کے بعد مقامی لوگ اپنے گھروں میں محصور ہیں۔

بدھ کی شام ایک خودکش بمبار نے بارود سے بھرا ٹرک کجھوری چیک پوسٹ کے قریب ایک مسجد سے ٹکرا دیا تھا جہاں اہلکار مغرب کی نماز ادا کر رہے تھے۔ اس حملے میں کم از کم پانچ اہلکار ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

رواں ماہ شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر شدت پسندوں کا یہ دوسرا بڑا حملہ تھا۔

گزشتہ ماہ حکیم اللہ محسود کی ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا نیا سربراہ ملا فضل اللہ بھی رواں ماہ ہی افغانستان سے شمالی علاقے میں داخل ہوا تھا۔

حکومت کی طرف سے ملک میں قیام امن کے لیے شدت پسندوں سے مذاکرات کو ترجیح دینے کے اعلان کے باوجود یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ملا فضل اللہ نے مذاکرات کے امکان کو مسترد کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG