رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان: نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی واپسی جاری


فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایک قبائلی راہنما پیر عاقل شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اگرچہ واپسی کاعمل جاری ہے تاہم اپنے گھروں کو جانے والوں کے کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد نقل مکانی کرنے والوں کی اپنے علاقوں میں مرحلہ وار واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔

قبائلی علاقوں میں آفات سے نمٹنے کے ادارے "ایف ڈی ایم اے" کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تحصیل میر علی کے دیہات سے نقل مکانی کرنے والے بارہ سو خاندانوں کی آئندہ ہفتے اپنے گھروں کو واپسی کا عمل مکمل ہو جائے گا۔

مقامی حکام کے مطابق نقل مکانی کرنے والے 80 فیصد افراد کی اپنے گھروں کو واپسی کا عمل مکمل ہو چکا ہے جب کہ باقی 20 فیصد افراد جن میں سرحد پار افغانستان جانے والے پاکستانی قبائلی خاندان بھی شامل ہیں کی واپسی کا عمل آئندہ چند ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔

’’ایف ڈی ایم اے‘‘ کے عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ اب تک لگ بھگ 75 ہزار خاندان بنوں اور خیبر پختونخواہ کے دیگر علاقوں سے واپس جا چکے ہیں جب کہ بقیہ خاندانوں کی واپسی کا عمل بھی جلد مکمل کی جائے گی۔

شمالی وزیر ستان کے ایک قبائلی راہنما پیر عاقل شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اگرچہ واپسی کاعمل جاری ہے تاہم اپنے گھروں کو جانے والوں کے کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔

’’ابھی کچھ علاقوں میں کسی کا گھر مسمار ہے، وہاں بجلی نہیں ہے،پانی نہیں ہے اس لیے وہاں انتظام کر رہے ہیں اور کبھی کبھی لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہاں سکیورٹی خدشات بھی ہیں۔۔۔۔ یہاں کوئی بارودی سرنگیں نا ہوں اس لیے لوگوں کی واپسی میں تاخیر ہوئی ہے۔"

پیر عاقل شاہ نے کہا کہ حکومت نے افغانستان منتقل ہونے والے خاندانوں کو جلد واپس لانے پر بھی اتفاق کیا ہے اور اُن کے بقول پہلے مرحلے میں وہاں سے لگ بھگ دو سو افراد کی رواں ماہ اپنے گھروں کو واپسی کی توقع کی جا رہی ہے۔

تاہم عاقل شاہ نے کہا جیسے جیسے لوگوں کی واپسی میں پیش رفت ہو رہی ہے اسکول اور اسپتال بھی کھلنا شروع ہو گئے ہیں لیکن اب بھی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری طرف قبائلی علاقوں کے حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد اپنے گھروں کو لوٹ چکی ہے اور وہ خاندان جنہوں علاقہ چھوڑتے وقت اپنے کوائف کا اندراج کروایا تھا انھیں واپسی کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

جون 2014ء میں پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا تھا جس کی وجہ سے یہاں سے لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے جن کی اکثریت ملحقہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں عارضی طور پر آباد ہوئی جب کہ ہزاروں افراد سرحد پار افغانستان چلے گئے۔

واضح رہے کہ شمالی وزیرستان کی پولیٹیکل انتظامیہ کی طرف سے حال ہی میں یہ بتایا گیا تھا کہ افغانستان میں نقل مکانی کر جانے والوں کے اعدادوشمار جمع کیے جا رہے ہیں اور جیسے ہی ان کے کوائف کا اندراج مکمل ہوگا ان کی شمالی وزیرستان میں واپسی کا عمل شروع ہو جائے گا۔

XS
SM
MD
LG