رسائی کے لنکس

غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف جوابی کارروائی جائز ہے:وزیردفاع


وزیر دفاع خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف

ملک کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں رواں ہفتے شدت پسندوں کی طرف سے سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر خودکش بم حملے میں کم ازکم پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

پاکستان کے وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے اور حکومت دہشت گردوں سے اس بارے میں نرمی نہیں برتے گی۔

جمعہ کو سرکاری ذرائع ابلاغ میں جاری ایک بیان کے مطابق خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ غیر ملکی دہشت گردوں کے حملوں پر سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی جائز ہے۔

اُنھوں نے یہ بیان پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں رواں ہفتے شدت پسندوں کی طرف سے سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر خودکش بم حملے اور اُس کے بعد ایک فوجی قافلے پر گھات لگائے جنگجوؤں کی فائرنگ کے تناظر میں دیا۔

شمالی وزیرستان میں بدھ کی شام ایک خودکش بمبار نے بارود سے بھرا ٹرک کجھوری چیک پوسٹ سے متصل مسجد سے ٹکرا دیا تھا جس سے کم ازکم پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

فوج کے مطابق اس واقعے کے بعد زخمی اہلکاروں کو منتقل کرنے والے سکیورٹی فورسز کے قافلے پر بھی فائرنگ کی گئی جس کے بعد علاقے میں بدھ کی رات کی گئی کارروائی میں 23 شدت پسند مارے گئے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ فورسز کو جمعرات کو خفیہ معلومات موصول ہوئیں کہ میر علی کے قریب شدت پسند دیسی ساخت کا بم تیار کر رہے ہیں جس پر علاقے میں تلاش کی کارروائی شروع کی تو جنگجوؤں سے جھڑپ میں حکام کے مطابق مزید 10 شدت پسند مارے گئے جن میں سے اکثریت ازبک دہشت گردوں کی بتائی جاتی ہے۔

عسکری حکام کے مطابق اس طرح اب تک ازبک جنگجوؤں سمیت 33 شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

تاہم جس علاقے میں یہ جھڑپیں ہوئیں وہاں تک میڈیا کے نمائندوں کو رسائی نہیں اس لیے ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً نا ممکن ہے۔

اُدھر جمعہ کو پشاور میں درجنوں افراد نے شمالی وزیرستان میں فوج کی کارروائی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں شامل زیادہ تر شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے طالب علم تھے جن کا دعویٰ تھا کہ اب تک کی کارروائی میں کئی عام شہری بھی مارے گئے۔

تاہم عسکری حکام کے مطابق یہ کارروائی خالصتاً سکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والوں کے خلاف جواباً کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق اب تک کی کارروائی میں بعض مقامات پر توپ خانے اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بھی شدت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

رواں ہفتے ہی وزیراعظم کی زیرصدارت کابینہ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی میں شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد ذرائع ابلاغ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی طرف سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کرنے کی خبریں سامنے آئیں۔

حکومت یہ کہہ چکی ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف طاقت کو صرف آخری حربے کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG