رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ، پاکستان کی مذمت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اُدھر منگل کو پاکستانی فوج کے مطابق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی میں غیر ملکی شدت پسندوں سمیت 13 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں منگل کو مبینہ امریکی ڈرون حملے میں کم ازکم چار مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

مقامی قبائلی اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق داوا توئی کے علاقے میں شدت پسندوں کے زیر استعمال ایک گھر پر ڈرون طیارے سے میزائل داغے گئے جس سے عمارت کا حصہ منہدم ہو گیا۔

قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کی رسائی نہ ہونے کے باعث ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً نا ممکن ہے۔

پاکستان نے ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی بندش کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارت خارجہ سے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ایسے حملے اُس کی ملکی سالمیت اور سرحدی حدود کی خلاف ورزی ہیں۔

گزشتہ سال کے اواخر سے ڈرون سے کی جانے والی کارروائیوں میں تقریباً چھ ماہ کا تعطل آیا لیکن رواں سال جون میں یہ میزائل حملے دوبارہ شروع ہوئے۔

واضح رہے کہ افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حالیہ مہینوں میں ایک بار پھر بغیر ہوا باز کے جاسوس طیاروں کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔

پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں جون کے وسط سے ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر رکھی ہے جس میں اب تک 1100 سے زائد شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

اُدھر منگل کو پاکستانی فوج کے مطابق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی میں غیر ملکی شدت پسندوں سمیت 13 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے ایک مختصر بیان کے مطابق انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی جس میں بتایا گیا تھا کہ واہگہ بارڈر کے قریب خودکش حملے میں ملوث عسکریت پسند اس علاقے میں موجود ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں لاہور کے مضافات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی راہداری ’واہگہ‘ پر خودکش حملے میں لگ بھگ ساٹھ افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG