رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان: شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سرکاری میڈیا کے مطابق یہ کارروائی میر علی کے علاقے میں کی گئی اور اس دوران داخلی و خارجی راستوں کو بند کر کے آنے جانے والوں کی تلاشی بھی لی جاتی رہی۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں کو پیر کو گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے نشانہ بنایا گیا جس میں حکام کے مطابق دو دہشت گرد مارے گئے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق یہ کارروائی میر علی کے علاقے میں کی گئی اور اس دوران داخلی و خارجی راستوں کو بند کر کے آنے جانے والوں کی تلاشی بھی لی جاتی رہی۔

جس علاقے میں یہ کارروائی کی گئی وہاں تک میڈیا کے نمائندوں کو رسائی حاصل نہیں اس لیے آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی درست تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گزشتہ ہفتے بھی سکیورٹی فورسز نے جیٹ طیاروں کی مدد سے کارروائی کی تھی جس میں عسکری حکام کے مطابق 36 غیر ملکی جنگجوؤں سمیت چالیس سے زائد شدت پسند مارے گئے تھے۔

اس کارروائی کے بعد شمالی وزیرستان سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی تھی اور مقامی قبائلیوں کے مطابق لگ بھگ 13 ہزار افراد علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

صوبائی حکام کے مطابق نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی زیادہ تر تعداد بنوں اور ٹانک کے اضلاع میں پہنچی ہے۔ یہ دونوں اضلاع قبائلی علاقوں کے قریب واقع ہیں۔

شمالی وزیرستان میں کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو روپوش ہیں جہاں سے وہ ملک کے مختلف حصوں میں ہلاکت خیز حملے کرتے رہتے ہیں۔

رواں ماہ بنوں اور راولپنڈی میں سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کی ذمہ داری بھی اسی تنظیم نے قبول کی تھی۔ جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے اس علاقے میں چھپے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG