رسائی کے لنکس

عالمی ادارہ خوراک نے پاکستان میں اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد کی غذائی ضروریات کے اپنے منصوبوں کو رواں سال کے اواخر تک جاری رکھنے کے لیے پانچ کروڑ دس لاکھ ڈالر کی رقم فراہم کرنے کا کہا ہے۔

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے باعث نقل مکانی کر کے آنے والے 6 لاکھ 98 ہزار 435 افراد کا اندراج مکمل ہو چکا ہے جب کہ ان کے قیام اور غذائی ضروریات کے لیے حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں نے اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

عالمی ادارہ خوراک نے نقل مکانی کرنے والوں میں خوراک کی تقسیم کا سلسلہ گزشتہ ماہ شروع کیا تھا اور ادارے کے پاکستان میں ترجمان امجد جمال کے بقول اب تک ڈبلیو ایف پی کی طرف سے تین لاکھ رجسٹرڈ افراد میں راشن تقسیم کیا جا چکا ہے۔

ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ فوج اور دیگر حکومتی ادارے بھی اپنی طرف سے لوگوں میں راشن تقسیم کر رہے ہیں۔ ان کے بقول آئندہ چند دنوں میں ڈبلیو ایف پی کی طرف سے تمام رجسٹرڈ افراد میں خوراک کی تقسیم کا پہلا مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔

تاہم عالمی ادارہ خوراک نے پاکستان میں اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد کی غذائی ضروریات کے اپنے منصوبوں کو رواں سال کے اواخر تک جاری رکھنے کے لیے پانچ کروڑ دس لاکھ ڈالر کی رقم فراہم کرنے کا کہا ہے ۔

امجد جمال نے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ رقم شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کے علاوہ دیگر قبائلی علاقوں سے بے گھر ہونے والے نو لاکھ تیس ہزار افراد کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درکار ہے۔

"اس میں وہ رقم بھی شامل ہے جو ہم اپنے بین الاقوامی ڈونرز سے لیں گے تاکہ اس گندم کو آٹے میں تبدیل کیا جاسکے اور پھر اسے تقسیم کیا جاسکے، ظاہر ہے یہ رقم تو فوری طور پر چاہیے ہی ہوتی ہے لیکن بے گھر افراد کے لیے جو ہمارا منصوبہ ہے وہ ستمبر تک محفوظ ہے۔"

گزشتہ ہفتے ہی امریکہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی "یوایس ایڈ" نے پاکستانی حکومت اور ڈبلیو ایف پی کے اشتراک سے ایک مشترکہ پروگرام کے تحت ان بے گھر افراد کے لیے 80 لاکھ ڈالر کی اعانت فراہم کی تھی۔

خیبر پختونخواہ کا ضلع بنوں وہ علاقہ ہے جہاں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے آنے والے سب سے زیادہ افراد پہنچے ہیں۔ سرکار اور فوج نے یہاں ایک کیمپ بھی قائم کیا ہے لیکن اولاً یہاں بنیادی سہولتوں کے فقدان کی شکایت کرتے ہوئے بہت ہی کم خاندان رہائش کے لیے آئے۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہاں مختلف بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو تیز کیا گیا اور فوج اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ عہدیداران تواتر کے ساتھ اس کیمپ کا دورہ کر کے بے گھر افراد کی دی جانے والی سہولتوں اور ان کی مشکلات کا جائزہ لینے لگے۔

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم کے سربراہ سعید علیم نے ہفتہ کو بکا خیل کیمپ کا دورہ کیا اور نقل مکانی کر کے آنے والوں کی مشکلات کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

بے گھر افراد کی طرف سے اندراج کے مراحل اور راشن کی تقسیم سمیت کی جانے والی دیگر شکایات کا تذکرہ کرتے ہوئے سعید علیم کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ ادارے انھیں دور کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔

"بہتری کی گنجائش تو رہتی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اسے مزید بہتر بنایا جائے تاکہ جو لوگ اس مشکل میں ہجرت کر کے آئے ہیں ان کے قیام کو یہاں پر جس قدر آسان بنایا جاسکتا ہے وہ ہم بنائیں۔"

حکومت بھی کہتی آئی ہے کہ شدت پسندی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں تعاون کے لیے ان بے گھر افراد کا تعاون ناگزیر تھا اور ان کی اس قربانی کو رائیگاں جانے نہیں دیا جائے گا۔

وزیراعظم نواز شریف اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ ان لوگوں کی مشکلات کا ازالہ کرتے ہوئے جلد ان کے گھروں کو واپسی کو یقینی بنایا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG