رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں میں خوشی کی لہر

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

جنرل راحیل شریف نے ہفتے کو پشاور میں کور ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا تھا جہاں انھیں شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے علاوہ وہاں سے بے دخل ہونے والوں کی واپسی سے متعلق تیار کی گئی حکمت عملی سے آگاہ کیا گیا۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ کی طرف سے اس بیان کے بعد شمالی وزیرستان سے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے گھروں کو باعزت واپسی ان کے لیے ترجیح ہے، نقل مکانی کرنے والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

جنرل راحیل شریف نے ہفتے کو پشاور میں کور ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا تھا جہاں انھیں شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے علاوہ وہاں سے بے دخل ہونے والوں کی واپسی سے متعلق تیار کی گئی حکمت عملی سے آگاہ کیا گیا۔

پاکستانی فوج نے 15 جون سے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی اور یہاں سے عورتوں اور بچوں کی ایک کثیر تعداد سمیت لگ بھگ چھ لاکھ افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔

عارضی طور پر بے گھر ہونے والے یہ افراد بنوں کے پاس قائم سرکاری کیمپوں کے علاوہ خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں جہاں ان کی طرف سے آئے روز مختلف شکایات کے علاوہ اپنے گھروں کو واپسی کی بیتابی سے متعلق خبریں آتی رہتی ہیں۔

شمالی وزیرستان کے علاقے ایدک سے آئے ہوئے ایک قبائلی حافظ شاہین اسلام نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ وہ جنرل راحیل کے اس بیان سے بہت خوش ہوئے ہیں۔

"ہمیں بہت خوشی ہوئی مجھے بہت فون بھی آئے، ہمارے سارے لوگ بہت خوش ہیں۔"

ایک قبائلی رہنما ملک غلام خان اس خبر سے خوش تو ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ گھروں کو واپسی سے قبل ان کے لیے امن و سلامتی کی ضمانت کے علاوہ ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جانا بھی ضروری ہے۔

قبل ازیں قبائلی علاقوں کے ایک بڑے جرگے میں بھی اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ نقل مکانی کرنے والوں کو کم ازکم ان علاقوں میں واپس بھیجا جائے جہاں حکام کے بقول دہشت گردوں کا صفایا کیا جا چکا ہے۔

فوجی حکام یہ کہہ چکے ہیں کہ شمالی وزیرستان کے تقریباً نوے فیصد علاقے کو شدت پسندوں سے پاک کیا جا چکا ہے لیکن ان کے بقول یہاں دہشت گردوں کی طرف سے بچھائی جانے والی بارودی سرنگوں کی صفائی اور دیگر حفاظتی انتظامات کے بعد مقامی لوگوں کو یہاں واپس بھیجا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG