رسائی کے لنکس

ہنگو میں بم دھماکا، وزیرستان میں فضائی و ڈرون حملہ

  • شمیم شاہد

جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں کم ازکم دو مبینہ شدت پسندوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

خیبر پختوںخواہ کے جنوبی ضلع ہنگو میں اتوار کی سہ پہر ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم ازکم سات افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق یہ دھماکا توغ سرائے نامی علاقے میں قائم محمد خواجہ کیمپ میں ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ کیمپ میں قائم ایک بازار میں لوگ خریداری میں مصروف تھے کہ وہاں کھڑی ایک موٹر سائیکل میں نصب بارودی مواد میں ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کیا گیا۔

تقریباً پانچ سال پہلے قائم کیے گئے اس کیمپ میں اورکزئی ایجنسی سے سلامتی کے خدشات کے باعث نقل مکانی کر کے آنے والے مقیم تھے۔

فوری طور پر اس واقعے کی ذمہ داری کسی فرد یا گروہ نے قبول نہیں کی لیکن ماضی میں کالعدم شدت پسند تنظیمیں یہاں ایسی پرتشدد کارروائیاں کرتی رہی ہیں۔

ادھر قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں اتوار کو ہونے والے ایک مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں کم ازکم دو مبینہ عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔ بغیر ہوا باز کے جاسوس طیارے سے وانا میں ایک ہدف کو نشانہ بنایا گیا۔

اس حملے میں مرنے والوں کی شناخت کے بارے میں فوری طور پر تفصیلات حاصل نہں ہوسکیں۔

گزشتہ چار روز میں پاکستانی قبائلی علاقے میں ہونے والا یہ دوسرا ڈرون حملہ تھا۔ اس سے قبل گزشتہ بدھ کو شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک حملے میں کم ازکم دس عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

پاکستان ان ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں اپنی جغرافیائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان حملوں کو شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن سے کوئی تعلق نہیں۔

پاکستانی فوج نے جون کے وسط سے شمالی وزیرستان میں ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر رکھی ہے جس میں اب تک ایک ہزار سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔

اتوار کو فوج کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ رات دیر گئے شوال کے علاقے میں لڑاکا طیاروں سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں غیر ملکی جنگجوؤں سمیت 15 عسکریت پسند مارے گئے اور ان کے پانچ ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

فوج کی طرف سے شروع ہونے والی کارروائی کے بعد ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی دیکھی گئی تھی لیکن حالیہ دنوں میں ایک بار پھر پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے ہلاکت خیز حملے رونما شروع ہوگئے ہیں۔

حکام متنبہ کر چکے ہیں کہ فوجی آپریشن کے ردعمل میں ایسی کارروائیاں ہو سکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG