رسائی کے لنکس

دہشت گردی کا ’کامیابی سے قلع قمع‘ کر رہے ہیں: نواز شریف


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستانی فوج کے مطابق گزشتہ سال جون میں شروع کیے گئے ’آپریشن ضرب‘ میں اب تک 2763 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جب کہ اس دوران 347 فوجی افسران اور جوان بھی ہلاک ہوئے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی اور غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن ’ضرب عضب‘ کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کامیابی سے ’’دہشت گردی کا قلع قمع کر رہا ہے اور ترقی کی نئی منازل طے کر رہا ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ ’’ضربِ عضب‘‘ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے حکومتی عزم کا مظہر ہے۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا کہ آپریشن ’ضرب عضب‘ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

صوبہ خیبرپختونخواہ کے گورنر سردار مہتاب احمد نے پیر کو وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ آپریشن ’ضرب عضب‘ میں ملنے والی کامیابیوں سے اُن کے بقول عوام کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔

’’آپریشن (ضرب عضب) اپنے آخری مرحلے میں جا چکا ہے، اکا دکا جگہوں پر مزاحمت کا سامنا ہے جیسا کہ شمالی وزیرستان میں وادی شوال ہے اور دتہ خیل کا کچھ علاقہ ہے۔ یہ علاقے افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہیں اور یہ (کارروائی) آخری مرحلے میں ہے کیوں کہ سردیوں میں وہاں فوجی آپریشن کو روک دیا گیا اور دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔‘‘

پاکستانی فوج کے مطابق گزشتہ سال جون میں شروع کیے گئے ’آپریشن ضرب‘ میں اب تک 2763 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جب کہ اس دوران 347 فوجی افسران اور جوان بھی ہلاک ہوئے۔

ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے کیوں کہ جس علاقے میں یہ آپریشن کیے گئے وہاں تک میڈیا کے نمائندوں کو رسائی نہیں۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ کے ایک بیان کے مطابق گزشتہ ایک سال میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ملک بھر میں نو ہزار آپریشن کیے گئے جن میں ہزاروں کی تعداد میں دہشت گرد اور اُن کے حامیوں کو گرفتار کیا گیا. بیان کے مطابق شہری علاقوں میں کی جانے والی کارروائیوں میں بھی 218 سخت گیر دہشت گرد مارے گئے۔

پاکستانی فوج کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے بعد رواں سال ملک میں شدت پسندوں کے حملوں میں کمی آئی ہے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ ’ضرب عضب‘ میں ملنے والی کامیابیوں کے باوجود دہشت گرد تنظیموں کے قیادت کو ابھی ہلاک یا گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

پاکستانی فوج کے کمانڈر بھی یہ کہتے رہے کہ ہیں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ ملا فضل اللہ بھی سرحد پار افغانستان میں روپوش ہے، جس کے خلاف کارروائی کے لیے افغان قیادت سے بات چیت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون میں قدرے بہتری آئی ہے لیکن اس حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں۔

XS
SM
MD
LG