رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان میں تعلیمی ادارے کھل گئے

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

حکام اور قبائلیوں نے بتایا کہ طالبان کی دھمکیوں کے پیش نظر شمالی وزیرستان کے مرکزی قصبے میران شاہ میں ایک سرکاری اور ایک نجی اسکول تاحال بند ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں تقریباً چار ماہ کے بعد تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ہیں اور ان میں درس و تدریس کا سلسلہ تسلی بخش انداز میں جاری ہے۔

شمالی وزیرستان میں تعلیمی اداروں کے انتظامی افسر زاویل خان وزیر نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگومیں بتایا کہ تعلیمی ادارے یکم ستمبر کو کھول دیے گئے تھے اور تاحال ان پر کسی بھی طرح کے دہشت گردانہ حملے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

حکام اور قبائلیوں نے بتایا کہ طالبان کی دھمکیوں کے پیش نظر شمالی وزیرستان کے مرکزی قصبے میران شاہ میں ایک سرکاری اور ایک نجی اسکول تاحال بند ہے۔

مقامی قبائلیوں نے بتایا کہ طالبان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان دونوں تعلیمی اداروں کے قریب سکیورٹی فورسز کی چوکی کو ختم کرے کیونکہ یہاں سے گزرنے والی طالبان کی گاڑیوں کی تلاشی لی جاتی ہے جو ان کے بقول پختون روایات کے منافی ہے۔

شمالی وزیرستان میں رواں سال اپریل میں طالبان شدت پسندوں کی طرف سے اسکولوں پر حملوں کی دھمکی کے بعد یہاں تدریسی عمل روک دیا گیا تھا۔

حالیہ ہفتوں میں پاکستان کے اس قبائلی علاقے میں شدت پسندوں کے سکیورٹی فورسز پر حملوں اور مبینہ امریکی ڈرون طیاروں سے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے باوجود یہاں دیگر قبائلی علاقوں کی نسبت تعلیمی سرگرمیاں کم متاثر ہوئی ہیں۔
XS
SM
MD
LG