رسائی کے لنکس

جوہری طاقت کے بعد معاشی طاقت بننے پر توجہ ہے: نواز شریف

  • عشرت سلیم

جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا پاکستانی میزائل

جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا پاکستانی میزائل

وزیرِ اعظم نے پاکستان کے جوہری دھماکوں کی 17 ویں سالگرہ کے موقع ایک بیان میں کہا کہ ان کی حکومت اب ملک کو اقتصادی طاقت بنائے گی۔

وزیرِ اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ جوہری طاقت نے پاکستان کے دفاع کو ’ناقابلِ تسخیر‘ بنا دیا ہے اور اُن کے بقول اب کوئی بیرونی طاقت پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی۔

وزیرِ اعظم نے پاکستان کے جوہری دھماکوں کی 17 ویں سالگرہ کے موقع ایک بیان میں کہا کہ ان کی حکومت اب ملک کو اقتصادی طاقت بنائے گی۔

11 اور 13 مئی 1998 کو بھارت نے پانچ جوہری دھماکے کیے تھے جس کے جواب میں پاکستان نے 28 اور 30 مئی کو چھ جوہری دھماکے کیے۔

تاہم بہت سے لوگوں کے خیال میں پاکستان کی جوہری طاقت ملک کے دفاع کو مضبوط بنانے میں کوئی خاص کردار ادا نا کر سکی۔

معروف ماہرِ جوہری طبیعات اور امن کے فروغ کے لیے کام کرنے والے ڈاکٹر اے ایچ نئیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ 1998 کے جوہری دھماکوں کے بعد سے اب تک بہت سے ایسے واقعات ہو چکے ہیں جنہوں نے پاکستان کی دفاعی قوت کے بارے میں سوالات کو جنم دیا ہے۔

انہوں نے پاکستان کو درپیش اندرونی سلامتی کے چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کے حالات ملک کی کئی دہائیوں سے جاری پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔

اے ایچ نئیر کا کہنا تھا کہ دہشت گرد عناصر نے ملک کو بری طرح نقصان پہنچایا، جس سے تعلیم و ترقی کا عمل متاثر ہوا۔

’’یہ وہ لوگ ہیں جن کا مقابلہ کرتے ہوئے ہمارے ہزاروں فوجی شہید ہوئے ہیں۔ ہمارے پچاس ہزار شہری ان کے دھماکوں میں شہید ہوئے ہیں۔ اس اندرونی خلفشار کا مقابلہ ہمارے ایٹمی ہتھیار کسی صورت سے بھی نہیں کر پائے۔‘‘

تاہم حکومت پاکستان اور جوہری صلاحیت کے حامی مبصرین کا ماننا ہے کہ خطے میں طاقت کے توازن اور پائیدار امن کے لیے جوہری ہتھیار ضروری ہیں۔

اُدھر وزیرِ اعظم نواز شریف نے بھی اپنے بیان میں ملک میں دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسی صورتحال کا مقابلہ کرنا اکیلے حکومت کے بس کی بات نہیں ہوتی بلکہ اس کی خاطر حکومت، عوام اور فوج کو متحد ہو کر مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔‘‘

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’آج پوری پاکستانی قوم دہشت گردی کے مسئلے پر یک جان اور یک زبان ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG