رسائی کے لنکس

پاکستانی جوہری تنصیبات محفوظ ہونے پرخدشات


پاکستانی جوہری تنصیبات محفوظ ہونے پرخدشات

پاکستانی جوہری تنصیبات محفوظ ہونے پرخدشات

پاکستان کے جوہری اثاثے تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ جوہری اثاثوں کی تعداد کے معاملے میں اگلے سال تک پاکستان فرانس کی جگہ لے لے گا۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ پیداوار اِس تیزی سے بڑھ رہی ہے، کیا اِس کے تحفظ کی طرف بھی کافی توجہ دی جا رہی ہے؟

پاکستان میں انتہائی حساسیت کےمقامات پر دہشت گردوں کےمتواتر حملوں کےبعد مغربی دنیا میں یہ خدشات بیان کیےجانے لگے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ پاکستان کی جوہری تنصیبات بھی اُن سے محفوظ نہ رہیں۔

کیا ایسا ہونا ممکن ہے؟ اِس سوال کے جواب میں پاکستان کے جوہری سائنسداں ڈاکٹر ثمرمند مبارک کا کہنا تھا کہ یہ ’ناممکنات‘ میں سے ہے۔

ڈاکٹر ثمرمند کے بقول، پاکستان کے جوہری اثاثے محفوظ ہیں۔ ہم نے بہت اقدام لیے ہوئے ہیں، اورتحفظ کے لیے دنیا کی بہترین تکنیک پرعمل درآمد کیا ہے۔

اُن سے معلوم کیا گیا آیا اِن جوہری تنصیبات میں کام کرنے والا کوئی شخص اِس تکنیکی علم کو ذاتی بنیاد پر کسی اور کو منتقل کرسکتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ کسی فردِ واحد کے ذمےپوری نیوکلیئر تیکنالوجی یا پوری میزائل تیکنالوجی کا کام حوالے نہیں ہوتا، ہرشخص کسی چھوٹے کَل پرزے پر کام کرتا ہے، اُسے پتا نہیں ہوتا کہ دوسرے شخص کے حوالے کیا کام ہے۔

اُن کے الفاظ میں، ’آپ کو کوئی ایک شخص ایسا نہیں مل سکتا جِس کو سارا کچھ پتا ہو۔ پھر کوئی کس کو کیا معلومات فراہم کرےگا۔‘

پاکستان کے جوہری اثاثوں کےبارے میں مغربی دنیا میں خدشات کیوں بڑھنے لگے ہیں؟ اِس سوال کا جواب دیتے ہوئے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ڈاکٹر زبیر اقبال کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ سب ملکوں کے مقابلے میں پاکستان کے جوہری اثاثے تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ جوہری اثاثوں کی تعداد کے معاملے میں اگلے سال تک پاکستان فرانس کی جگہ لے لے گا۔

ڈاکٹر زبیر کا کہنا تھا کہ جب کہ یہ پیداوار اِس تیزی سے بڑھ رہی ہے کیا اِس کی سکیورٹی بھی اُسی کے ساتھ اتنی محفوظ ہے۔پھر یہ کہ تعلقات میں تناؤ کا معاملہ ہے جیسا اِس وقت پاکستان امریکہ امور میں ہے، جب اُن کے بقول، ہر قسم کی بات کو سامنے لایا جاتا ہے۔

’اِس میں صرف انسداد دہشت گردی یا عسکریت پسندی کے خلاف لڑنا ہی نہیں، بلکہ نیوکلیئر اثاثے کی بات بھی ہوتی ہے۔ یہ پریشر کے حربے ہوتے ہیں جِن کے تحت آپ دباؤ ڈالتے ہیں کہ کوئی ملک اپنے نیوکلیئر اثاثے ظاہر کرے، اور حفاظت کے لیے جو ضروری شرائط ہیں اُن پر واضح طور پر بات کی جائے۔‘

ڈاکٹر زبیر کے الفاظ میں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو خود یہ خیال ہونا چاہیئے کہ اُن کے اثاثے ’محفوظ ہیں یا نہیں‘؟ کیا ملٹری اثاثوں کو محفوظ بنانے کے قابل ہے؟ اِس لیے اِس معاملے کو اتنی اہمیت دی جانی چاہیئے۔ کیا اِس میں پرپیگنڈہ زیادہ ہے؟ اصل بات کیا ہے؟

جب اُن سے پوگھا گیا کہ مغربی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق پاکستان سے چند افراد نے ذاتی فائدے کے لیے نیوکلیئر تیکنالوجی دوسرے ممالک کو منتقل کی ہے اور اِس بارے میں جِن مزید خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیا وہ درست ہیں؟ ڈاکٹر زبیر کے بقول، اگر ایک فرد کے پاس تیکنالوجی ہے وہ اگر چاہے تو ایک ملک سے اُٹھ کر دوسرے ملک چلا جائے اور سپلائی کردے، تو آپ کیسے کنٹرول کریں گے؟

اِس لیے، اُن کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف پاکستان کا نہیں۔ یہ تمام دنیا کا معاملہ ہے۔ اب تو یہ بنیادی بات ہے کہ روس کے پاس کتنے نیوکلیئر سائنس داں تھے۔ اور جب سوویت یونین ختم ہوا یہ سائنس داں ہر طرف بکھر گئے۔ اُنھوں نے تیکنالوجی سب کو بتانا شروع کردی۔ آیا، ہم اُن لوگوں پر بھی نکتہ چینی کر رہے ہیں یا صرف پاکستانیوں پرہی تنقید کر رہے ہیں؟

ڈاکٹر زبیر کے بقول، اگر اس پر مؤثر کنٹرول نہ کیا جائے تو تیکنالوجی محفوظ ہاتھ میں نہیں رہتی۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ کسی ایک فرد کے پاس تیکنالوجی کی معلومات نہ ہو تاکہ اگر وہ اُس تیکنالوجی کو برآمد کرنے کی کوشش بھی کرے تو ایک چھوٹے سے پرزے کی برآمد بھی ممکن نہ ہو۔اور قانونی یا غیر قانونی طور پر مکمل تیکنالوجی کو منتقل کرنا آسان نہیں ہوتا۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG