رسائی کے لنکس

جوہری پروگرام سےمتعلق خبریں پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیےدی جاتی ہیں: تجزیہ کار


جوہری پروگرام سےمتعلق خبریں پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیےدی جاتی ہیں: تجزیہ کار

جوہری پروگرام سےمتعلق خبریں پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیےدی جاتی ہیں: تجزیہ کار

’ڈاکٹر قدیر کی شخصیت متنازعہ رہی ہے۔ مگر مغرب کو اُن کی استعداد ِ کار کی حدود کا علم ہے، اور جس طرح سے پاکستان میں اُن کی سرگرمیاں محدود رکھی گئی ہیں وہ کسی کے لیے اب خطرہ نہیں ہوسکتے‘۔ ’ایشیا کالنگ‘ سے منسلک، کرسٹوفر سنیڈن کہتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ کی تازہ ترین رپورٹ درست ہے یا نہیں اِس بات سے ہٹ کر یہ چیز واضح ہوگئی ہے کہ پاکستان سے جوہری راز فاش ہوئے ہیں، خواہ کسی کی ذاتی ایما ٴپر یا حکومت کی جانب سےباضابطہ طورپر۔ پاکستان کا ایک عرصے سے نام نہیں آیا کہ کوئی پرلیفریشن ہوئی ہو: ڈاکٹر تنویر احمد خان

انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ، ڈاکٹر تنویر احمد خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق خبریں گاہے بگاہے آتی رہتی ہیں اور اُن کا مقصد ایک خاص زاوئیہٴ نگاہ سے پاکستان پر دباؤ ڈالنا ہوتا ہے۔

اُنھوں نے یہ بات جمعرات کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہی۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ ماضی میں جوہری معلومات کے تبادلے میں ضابطوں کی خلاف ورزی اگر ہوئی بھی ہے تو وہ بات اب قصہٴ پارینہ ہوچکی۔ فی الوقت، پاکستان میں کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم مربوط ہے اور امریکہ بذاتِ خود اِس کا معترف ہے۔

ڈاکٹر تنویرکے بقول، ’پاکستان اِس سے قطعی طور پر انکار نہیں کرسکتا۔ عین ممکن ہے کہ اِس وقت کہیں نہ کہیں کچھ لیک ایج ہوا ہو۔ لیکن، یہ ماضی کی باتیں ہیں۔ اُن سے یہ اخذ کرنا کہ پاکستان آج بھی ایک طرح سے خطرہ ہے (درست نہیں)۔ بات نیوکلیئر کے پھیلاؤ کی ہوتی ہے اور پاکستا ن کا دعویٰ ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوا وہ ہوا، لیکن اب اتنے چیکس اینڈ بیلنسز اور کنٹرول ہیں کہ پاکستان کے نیوکلیئر سیکرٹس کسی اور ملک سےکم محفوظ نہیں ۔ پاکستان کا ایک عرصے سے نام نہیں آیا کہ کوئی پرولیفریشن ہوئی ہو۔

ڈاکٹر تنویر نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر کی شخصیت متنازعہ رہی ہے۔ مگر مغرب کو اُن کی استعداد ِ کار کی حدود کا علم ہے، اور جس طرح سے پاکستان میں اُن کی سرگرمیاں محدود رکھی گئی ہیں وہ کسی کے لیے اب خطرہ نہیں ہوسکتے۔

کرسٹوفر سنیڈن ، میلبورن میں قائم ادارے ’ایشیا کالنگ‘ کے سربراہ ہیں۔ وہ ڈاکٹر قدیر کے حوالے سے ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں شائع ہونے والے خط کے بارے میں کہتے ہیں کہ جوتحریرسامنے آئی ہے اُس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکٹر قدیر نے یہ اقدام پاکستانی فوج کے اعلیٰ افسروں بشمول جنرل (ر) جہانگیر کرامت کی مرضی سے اُٹھایا، جو پاکستانی فوج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف رہ چکے ہیں۔’ اگرچہ جنرل (ر) کرامت کہہ رہے ہیں کہ خط حقیقت پر مبنی نہیں ہے اور بے بنیاد ہے۔ لیکن، ڈاکٹر قدیر خان کے مطابق جنرل (ر) کرامت نے شمالی کوریا سے تین ملین ڈالر وصول کیے اور ڈاکٹر قدیر خان کی جانب سے جو بات سامنے آئی ہے کافی عرصے سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ڈاکٹر قدیر خان اکیلے یہ کام نہیں کرسکتے‘۔

کرسٹوفر سنیڈن مزید کہتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ کی تازہ ترین رپورٹ درست ہے یا نہیں اِس بات سے ہٹ کر یہ چیز واضح ہوگئی ہے کہ پاکستان سے جوہری راز فاش ہوئے ہیں، خواہ کسی کی ذاتی ایما ٴپر یا حکومت کی جانب سےباضابطہ طورپر۔

واضح رہے کہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے ڈاکٹر قدیر کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ نوے کی دہائی کے آخر میں پاکستان کی فوج کے اعلیٰ عہدے داروں کو شمالی کوریا نے جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے عوض 30لاکھ ڈالر بطور رشوت دیے تھے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق، سابق فوجی سربراہ، جنرل (ر) جہانگیر کرامت نے اِس خبر کی تردید کی ہے اور اِسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG