رسائی کے لنکس

پاکستان کا جوہری پروگرام ’اپنے دفاع‘ کے لیے ہے: وزارت خارجہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

کمیٹی کے سربراہ ایڈ روئس کا کہنا تھا کہ پاکستان سب سے زیادہ جوہری ہتھیار رکھنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک بننے کی راہ پر گامزن ہے اور اس کے چھوٹے جوہری ہتھیار اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل زیادہ تشویش کا باعث ہیں۔

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے اور اس کا جوہری پروگرام ایک خاص تناظر اور اپنے تحفظ کے لیے ہے۔

یہ بات دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے جمعرات کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کہی، جس میں امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے امور خارجہ کی طرف سے پاکستان کے جوہری پروگرام پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

کمیٹی کے سربراہ ایڈ روئس کا کہنا تھا کہ پاکستان سب سے زیادہ جوہری ہتھیار رکھنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک بننے کی راہ پر گامزن ہے اور اس کے چھوٹے جوہری ہتھیار اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل زیادہ تشویش کا باعث ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ " ہم اس معاملے پر (امریکہ سے) متعدد بار بات کر چکے ہیں، پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے، ہمارا جوہری پروگرام ایک خاص تناظر میں ہے، ہم کم سے کم دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے عزم پر قائم ہیں اور یہ پروگرام ہمارے اپنے تحفظ کے لیے ہے۔"

ان کے بقول جب پاکستان اور امریکہ کے وفود ملتے ہیں تو وہ دیگر امور کے علاوہ اس معاملے پر بھی تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

چند ماہ قبل ہی دو بین الاقوامی تحقیقی اداروں نے ایک مشترکہ رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان ہر سال 20 جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے اور اگر اسی رفتار سے یہ سلسلہ جاری رہا تو ایک دہائی میں پاکستان سب سے زیادہ جوہری بم رکھنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن جائے گا۔

تاہم اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان نے تیزی سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔

پاکستان کا روایتی حریف اور پڑوسی ملک بھارت بھی جوہری ریاست ہے دونوں ممالک ان ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی پر کاربند ہیں۔

امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے امور خارجہ کی ہونے والی سماعت کے دوران پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی رچرڈ اولسن بھی موجود تھے جنہوں نے اوباما انتظامیہ کا اس ضمن میں نقطہ نظر پیش کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اس کے جوہری ہتھیاروں اور دیگر سلامتی کے معاملات پر کھل کے بات چیت کرتا رہا ہے۔

کمیٹی کے رکن بریڈ شرمین نے سفیر اولسن سے کہا کہ وہ پاکستانی حکام کو یہ پیغام پہنچا دیں کہ پاکستان کو ایک سچے شراکت دار کے طور پر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر ان کے بقول کانگریس میں بعض لوگ اس ملک کے لیے تمام امریکی امداد کو ختم کرنے کے لیے زور دے سکتے ہیں۔

نمائندہ خصوصی اولسن نے کہا کہ وہ یہ تحفظات پہنچا دیں گے لیکن ان کے بقول اوباما انتظامیہ کا ماننا ہے کہ پاکستان کو معاونت کی فراہمی جاری رکھنا امریکہ کے بہترین مفاد میں ہے کیونکہ یہ ملک انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کر رہا ہے۔

پاکستان کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف کی جانے والی کوششوں کو امریکہ سمیت دیگر ملک بھی سراہتے ہیں لیکن امریکی قانون سازوں کی طرف سے یہ تحفظات بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ پاکستان دہشت گرد گروپ حقانی نیٹ ورک کو اس میں نشانہ نہیں بنا رہا۔

تاہم پاکستانی عہدیدار یہ کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز کی جا رہی ہیں اور وہ اپنی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم پر قائم ہے۔

XS
SM
MD
LG