رسائی کے لنکس

پاکستان کے جوہری تحفظ سے متعلق اقدام بہترین ہیں: امریکی عہدیدار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

دفاعی امور کے تجزیہ کار اکرام سہگل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق تحفظات یہاں ماضی کے حالات کی بنیاد پر ہیں لیکن ایسے میں امریکی عہدیدار کی طرف سے اس طرح کے بیان سے پاکستان کو اعتماد ضرور حاصل ہو گا۔

ہتھیاروں کی روک تھام اور بین الاقوامی سلامتی سے متعلق امریکہ کی معاون وزیر روز گوٹیمولر نے کہا ہے کہ اپنے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ کے لیے پاکستان نے بہترین اقدام کیے ہیں۔

یہ بات انھوں نے امریکی سینٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات کے سامنے بیان میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہی۔

معاون وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اس ضمن میں ایسے پروگرام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا جو نہ صرف اس کے اپنے مفاد کا تحفظ کر رہا ہے بلکہ علاقائی بنیادوں پر اس کی تربیت بھی فراہم کر رہا ہے۔

انھوں نے ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون پر پاکستان کو سراہا۔

اسلام آباد کی طرف سے اپنے جوہری پروگرام کے تحفظ اور ٹیکنالوجی کے عدم پھیلاؤ سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کی مسلسل یقین دہانیوں کے باوجود آئے روز اس ضمن میں خاص طور پر مغربی دنیا کی طرف سے تحفظات کا اظہار دیکھنے میں آتا رہتا ہے۔

ایک ایسے وقت جب رواں ماہ کے اواخر میں امریکہ جوہری سلامتی سے متعلق سربراہ اجلاس کی میزبانی کرنے جا رہا ہے امریکی عہدیدار کا پاکستان کے جوہری تحفظ سے متعلق بیان مبصرین کے بقول خوش آئند ہے۔

دفاعی امور کے تجزیہ کار اکرام سہگل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق تحفظات یہاں ماضی کے حالات کی بنیاد پر ہیں لیکن ایسے میں امریکی عہدیدار کی طرف سے اس طرح کے بیان سے پاکستان کو اعتماد ضرور حاصل ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری یہ تسلیم کرتی ہے کہ جوہری تحفظ کے لیے پاکستان کے اقدام تسلی بخش ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اس بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار بھی کرتی ہے جو کہ بظاہر اس ملک پر ایک طرح کا دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔

گزشتہ سال ہی دو موقر بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں "کارنیگی انڈاؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس" اور دی "سٹمسن سینٹر" کی طرف سے ایک مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان ہر سال 20 جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے اور اگر ہتھیاروں کی تیاری اسی رفتار سے جاری رہی تو ایک دہائی میں پاکستان جوہری ہتھیار رکھنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہو گا۔

تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ کسی طور بھی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں اور اس کا جوہری پروگرام صرف اس کے اپنے دفاع کے لیے ہے۔

رواں ماہ ہی مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے پارلیمان کے سامنے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت صرف ملک کے دفاع کے لیے ہے اور وہ کسی بھی صورت میں اسے کسی دوسرے ملک کو منتقل نہیں کرے گا۔

XS
SM
MD
LG