رسائی کے لنکس

وکی لیکس: جوہری ہتھیاروں کے بارے میں خدشات بے بنیاد ہیں، پاکستان


وکی لیکس: جوہری ہتھیاروں کے بارے میں خدشات بے بنیاد ہیں، پاکستان

وکی لیکس: جوہری ہتھیاروں کے بارے میں خدشات بے بنیاد ہیں، پاکستان

پاکستان نے وکی لیکس کی جانب سے جاری کیے گئے خفیہ امریکی سفارتی دستاویزات میں اپنے جوہری ہتھیاروں کی سلامتی سے متعلق خدشات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

بدھ کے روز پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے اپنے ردِ عمل میں جاری کردہ دستاویزات میں امریکی سفارت کاروں کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کو بے بنیاد قرار دیا۔

"نیویارک ٹائمز" اور "گارجین" میں شائع ہونے والی سفارتی دستاویزات کی تفصیلات کے مطابق امریکی سفارت کاروں کی جانب سے اپنی رپورٹوں میں پاکستان کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں اضافے، ملک میں موجود جمہوریت کی ناگفتہ بہ حالت، افواجِ پاکستان کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی اور ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی بحران پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

دستاویزات کے مطابق فروری 2009 میں پاکستان میں اس وقت کی امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے اپنے ایک مراسلے میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو لکھا تھا کہ امریکی حکام اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ کہیں پاکستان کے کسی جوہری پلانٹ میں کام کرنے والا کوئی فرد وہاں سے جوہری مواد بیرونِ ملک منتقل نہ کردے۔

اسی عرصے کے دوران اسلام آباد سے واشنگٹن بھیجے گئے ایک اور مراسلے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیا نی 2009 کے آغاز میں پیدا ہونے والے ایک سیاسی بحران کے دوران ملک کے انتہائی غیر مقبول صدر آصف علی زرداری کو تبدیل کرنے پر غور کرتے رہے تھے۔

اسی دوران صدر زرداری نے اسلام آباد کا دورہ کرنے والے امریکی نائب صدر جو بائیڈن سے کہا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ فوج انہیں اقتدار سے باہر کردے گی۔

وکی لیکس کی جانب سے جاری کردہ ایک اور سفارتی رپورٹ میں امریکی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے مزید معاشی اور فوجی امداد کی فراہمی کے باوجود پاکستان اسلامی شدت پسندوں کی حمایت سے باز نہیں آئے گا کیونکہ وہ انہیں اپنے دشمن پڑوسی ملک بھارت کے خلاف سلامتی سے متعلق اپنی حکمتِ عملی کا اہم جزو سمجھتا ہے۔

ایک اور سفارتی دستاویز میں امریکی سفارتی حکام نے پاکستانی فوج کی جانب سے زیرِ حراست افراد کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

وکی لیکس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ کی اسپیشل فورسز کے جوانوں پر مشتمل مختصر ٹیموں نے پاکستانی حکومت کی اجازت سے ملک کے قبائلی علاقوں میں کاروائیاں کی تھیں۔

دوسری جانب امریکی حکام مستقبل میں مزید خفیہ سرکاری دستاویزات کی ممکنہ اشاعت کی روک تھام کیلیے کاروائیوں میں مصروف ہیں۔ حکام کو شبہ ہے کہ امریکی افواج کے خفیہ نیٹ ورک تک رسائی رکھنے والا اور فوجی رپورٹوں کے تجزیہ کی ذمہ داری پہ تعینات ایک سابق اہلکار ان خفیہ دستاویزات کے اجراء میں ملوث ہے۔ تاہم وکی لیکس کی جانب سے رپورٹوں تک رسائی فراہم کرنے والے ذرائع کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے وکی لیکس کی جانب سے خفیہ دستاویزات کے اجراء کو باعثِ شرم قرار دیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس سے "کوئی خاص فرق نہیں پڑتا"۔

XS
SM
MD
LG