رسائی کے لنکس

اوباما کے دورہ بھارت سے پاکستان کی توقعات


دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط

دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط

پاکستان نے کہا کہ امریکی صدر براک اوباما کا آئندہ ماہ بھارت کا دورہ پاکستان کے لیے باعث پریشانی نہیں تاہم اسے امید ہے کہ اپنے دورے میں امریکی صدر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

جمعرات کو دفتر خارجہ میں ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ بھارت کے ساتھ دوطرفہ تنازعات کو حل کرنے سے خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور بھارتی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت میں صدر اوباما ان تمام متنازع امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

لیکن انھوں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ پاکستان کی طرف سے تمام تر کوششوں کے باوجود بھارت متنازع امور کے حل کے لیے دوطرفہ مذاکرات کا سلسلہ بحال کرنے سے انکاری ہے اور دوطرفہ تعلقات معمول پر لانے سے متعلق تمام تر دعووٴں کے برعکس بھارتی حکومت نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا یا ہے۔

پاکستانی ترجمان نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی سر زمین پر ہونے والی تخریب کاری کی کارروائیوں کی ذمہ داری پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر ڈالنے کی پالیسی کو ترک کر دے کیوں کہ ان کے بقول یہ پالیسی تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔

اوباما کے دورہ بھارت سے پاکستان کی توقعات

اوباما کے دورہ بھارت سے پاکستان کی توقعات

بھارت نے دوطرفہ مذاکرات کا سلسلہ نومبر 2008ء میں ہونے والے ممبئی حملوں کے بعد یہ الزام لگا کر یک طرفہ طور پر معطل کر دیا تھا کہ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں پاکستان سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے کیں جن کی سرپرستی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کرتی ہے۔ پاکستان نے تسلیم کیا ہے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی میں ملک میں موجود انتہا پسند عناصر نے کردار ادا کیا ہے لیکن پاکستانی حکام اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہیں کہ ان حملوں میں ملک کا کوئی سکیورٹی کا ادارہ ملوث تھا۔

دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان مختلف مواقعوں پر ملاقاتوں کے باوجود بات چیت کا سلسلہ تاحال شروع نہیں ہو سکا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بار پھر کہا کہ پاکستان دو طرفہ مذاکرات کی بحالی کا خواہشمند ہے لیکن وہ چاہے گا کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر محض اپنے روائتی موقف کو دہرانے کے بجائے بھارت کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کے لیے ٹھوس تجاویز پیش کرے۔

دو روز قبل پاکستانی کشمیر کے چار ہزار طالب علموں نے امریکی صدر کے نام اپنے خطوط میں صدر اوباما سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ دورہ بھارت میں کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے پر بھارتی رہنماؤں سے ضرور بات کریں تاکہ اس تنازع کی وجہ سے علاقے میں پائی جانے والی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

XS
SM
MD
LG