رسائی کے لنکس

کشمیر کو بھارت کا ’اندرونی معاملہ تصور نہیں کیا جا سکتا‘


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بھارت کشمیر سے متعلق پاکستان کی تشویش کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہتا ہے وہ اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کسی بھی ریاست کو سیاسی مفادات اور ریاستی حکمت عملی کے نام پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

بدھ کویہ بات انھوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے شہریوں کے خلاف کی جانے والی ہلاکت خیز کارروائیوں پر ایک پیغام میں کہی۔

حالیہ دونوں میں بھارتی کشمیر میں مظاہروں کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں اور مختلف کارروائیوں کے دوران 45 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں اور کشمیر کے اس حصے میں کرفیو کے نفاذ کے علاوہ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر معطل رکھی گئی۔

کشمیر میں ان ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان میں بدھ کو سرکاری طور پر "یوم سیاہ" منایا گیا۔

اس موقع پر اپنے پیغام میں پاکستانی وزیراعظم نے بھارت پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی برادری کے سامنے کیے گئے اپنے عہد کے مطابق کشمیریوں کو خود ارادیت کا حق دے۔

کشمیر دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان شروع ہی سے متنازع علاقہ ہے جس کا ایک حصہ پاکستان اور ایک بھارت کے زیر انتظام ہے۔ بھارت کشمیر سے متعلق پاکستان کی تشویش کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہتا ہے وہ اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ کا کہنا ہے کہ پاکستان جموں و کشمیر کی صورتحال سے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور ان کے بقول بھارت کو توقع ہے کہ پاکستان اس کے داخلی معاملات میں مزید مداخلت سے باز رہے گا۔

تاہم وزیراعظم نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ تصور نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اقوام متحدہ اسے متنازع قرار دے چکی ہے جب کہ بھارت خود بھی یہ عہد کر چکا ہے کہ وہ کشمیریوں کی خواہش کا تعین کرنے کے لیے رائے شماری کروائے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر دنیا کے دیگر ملکوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملات اقوام متحدہ اور دیگر فورمز پر اٹھائے جاتے ہیں تو پھر "مقبوضہ کشمیر" میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کیوں نہیں کی جاتی۔

نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے عوام پر بھارت کے "مظالم" سے غافل نہیں رہ سکتا اور کشمیریوں کی سفارتی و سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کو "یوم سیاہ" کے موقع پر ملک کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں جب کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ملازمین بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔

XS
SM
MD
LG