رسائی کے لنکس

’جدید غلاموں‘ کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر: رپورٹ

  • عشرت سلیم

ایک پاکستانی مزدور سکھر کے قریب اینٹوں کے ایک بھٹے پر کام کر رہا ہے۔ فائل فوٹو

ایک پاکستانی مزدور سکھر کے قریب اینٹوں کے ایک بھٹے پر کام کر رہا ہے۔ فائل فوٹو

جدید غلامی کی صورتوں میں قرض کے بدلے مفت غلامی، بچوں کی غلامی، زبردستی شادی، گھریلو مشقت اور جبری مشقت شامل ہیں، جہاں غلامی کے شکار افراد کو تشدد یا ڈرا دھمکا کر کام پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ایک عالمی مطالعے کے مطابق غلامی جیسے حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور افراد کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔

جدید غلامی کی اصطلاح استحصال کی ایسی صورتحال کے لیے استعمال کی جاتی ہے جہاں کوئی شخص دھمکیوں، تشدد، جبر، طاقت کے غلط استعمال یا دھوکہ دہی کے باعث محنت سے انکار نہیں کر سکتا یا کام چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔

آسٹریلیا کی تنظیم ’واک فری فاؤنڈیشن‘ کی طرف سے جاری کی گئی 2016 گلوبل سلیوری انڈیکس میں کل آبادی میں غلامی جیسی زندگی گزارنے والوں کے تناسب کے لحاظ سے دنیا کے 167 ممالک کی درجہ بندی کی گئی ہے جس میں پاکستان کا نمبر چھٹا ہے۔

تاہم وہ ممالک جن میں جدید غلامی کے شکار افراد کی سب سے زیادہ تعداد پائی جاتی ہے، ان میں بھارت سرفہرست ہے۔ دوسرے نمبر پر چین، تیسرے پر پاکستان، چوتھے پر بنگلہ دیش جبکہ ازبکستان کا نام پانچویں نمبر ہے۔

پاکستان کے حوالے سے دیے گئے اعدادوشمار میں کہا گیا ہے کہ وہاں اندازاً 21 لاکھ 34 ہزار نو سو افراد غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں جو پاکستان کی آبادی کا 1.13 فیصد ہے۔

بھارت میں جدید غلامی کی زندگی گزارنے والوں کی تعداد کا تخمینہ ایک کروڑ 83 لاکھ سے زائد لگایا گیا ہے جبکہ عالمی درجہ بندی میں بھارت کا نمبر چوتھا ہے۔

تاہم رپورٹ کے بقول پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی حکومت غلامی کو ختم کرنے کے لیے زیادہ فعال ہے اور اس سلسلے میں اس نے کئی اقدامات بھی کیے ہیں۔

رپورٹ کے تخمینے کے مطابق چین میں لگ بھگ 34 لاکھ افراد جدید غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

جدید غلامی کی صورتوں میں قرض کے بدلے مفت غلامی، بچوں کی غلامی، زبردستی شادی، گھریلو مشقت اور جبری مشقت شامل ہیں، جہاں غلامی کے شکار افراد کو تشدد یا ڈرا دھمکا کر کام پر مجبور کیا جاتا ہے۔

جبری مشقت کے خلاف طویل عرصہ سے سرگرم بانڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ کی سیکرٹری جنرل سیدہ غلام فاطمہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے غیررسمی شعبے اور بہت سی صنعتوں میں محنت کشوں کو ان کی محنت کی کم سے کم اجرت ادا نہیں کی جا رہی۔

’’غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے، گھروں میں کام کرنے والی عورتیں اور بچے، قالین سازی کی صنعت جو اب گھریلو صنعت بن گئی ہے، طبی آلات بنانے کی صنعت میں (غلامی کسی نہ کسی صورت میں برقرار ہے)۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’دنیا میں لوگ روزمرہ اخراجات کے مطابق اجرت کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہاں پر کم سے کم اجرت سے بھی آدھا (ملتا ہے)۔ 962 روپے (فی) ہزار اینٹ بنانے کا ریٹ ہے، اور مزدور کو 400 روپے ملتے ہیں۔ آج مجھے گجرات سے رپورٹ آئی ہے کہ 300 روپے (فی) ہزار اینٹ بنانے کا مل رہا ہے۔‘‘

پاکستان کے چاروں صوبوں میں 2015 کے بجٹ میں پندرہ سال سے زائد عمر کے غیر ہنرمند افراد کی کم سے کم اجرت 13,000 روپے ماہانہ رکھی گئی تھی۔

سیدہ غلام فاطمہ کے بقول مناسب اجرت نہ ملنے کی وجہ یہ ہے کہ کم سے کم اجرت پر عملدرآمد کرانے والے سرکاری ادارے اپنا کام صحیح طریقے سے سرانجام نہیں دے رہے۔

انہوں نے کہا کہ مناسب لیبر انسپیکشن نہیں کی جاتی ہے جس کے باعث ناصرف مزدور طبقے کی حق تلفی ہو رہی ہے بلکہ پاکستان کا نام دنیا میں غلامی جیسے حالات میں زندگی گزارنے والوں کی آبادی کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے جو ملک کے لیے باعث شرمندگی ہے۔

واک فری فاؤنڈیشن نے 2014 سے اب تک دنیا بھر میں 25 گیلپ سروے کرائے ہیں جن میں 28,000 افراد سے جدید غلامی سے متعلق سوالات کیے گئے۔

جدید غلامی کی موجودگی کا تخمینہ انہی جائزوں سے حاصل کیے گئے اعدادوشمار سے لگایا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG