رسائی کے لنکس

مدد و بحالی اپنے وسائل سے کریں گے: پاکستان


نقل مکانی کرنے والے قبائلی خاندان سٹرک کنارے امداد کا اتنظار کررہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

نقل مکانی کرنے والے قبائلی خاندان سٹرک کنارے امداد کا اتنظار کررہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

لیکن خیبرپختونخواہ کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے ایک اخباری اشتہار کے ذریعے بین الاقوامی برادری کو انسانی بنیادوں پر نقل مکانی کرنے والے قبائلیوں کی امداد میں بھرپور کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

نواز شریف انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرکے بنوں اور دیگر قریبی اضلاع میں آئے ہوئے قبائلی خاندانوں کی امداد کے لیے بین الاقوامی برادری سے امداد کی اپیل نہیں کی جائے گی بلکہ مقامی وسائل کو بروکائے لاتے ہوئے اقدامات کئے جائیں گے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ اس بارے میں وزیراعظم نے بڑی واضح ہدایت جاری کی ہے کہ بیرون ملک سے کوئی امداد حاصل نا کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے فوجی آپریشن سے بے دخل ہوئے خاندانوں کی طرح شمالی وزیرستان کے عوام کی اپنے گھروں تک واپسی اور وہاں بحالی پاکستان حکومت خود کرے گی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن کے خوف سے افغانستان جانے والے قبائلیوں میں سے تقریباً 14 ہزار افراد بھی واپس آگئے ہیں۔

’’سرحد پار جانے والے بہت سارے اپنے رشتہ داروں کے پاس رہے لیکن ہماری معلومات ہیں کہ جیسے جیسے علاقے عسکریت پسندوں سے صاف کیے جارہے ہیں وہ قبائلی خاندان واپس آرہے ہیں۔‘‘

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ماہ شمالی وزیرستان میں القاعدہ سے منسلک عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد سے اب تک 8 لاکھ سے زائد لوگ گھربار چھوڑ کر قبائلی علاقے سے متصل صوبہ خیبرپختونخواہ کے شہروں میں آچکے ہیں۔

تاہم خیبرپختونخواہ کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے ایک اخباری اشتہار کے ذریعے بین الاقوامی برادری کو انسانی بنیادوں پر بھرپور کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے جس سے نمٹنے کے لیے عالمی امدادی کارراوئیوں کی ضرورت ہے۔

ضلع بنوں میں سب سے زیادہ نقل مکانی کرنے والے قبائل رہائش پذیر ہیں۔ وہاں سے تعلق رکھنے والے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے رکن فخر اعظم وزیر کا وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی اپیل درست ہے۔

’’وفاق کی اپنی پالیسی اور صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ہماری ضرورت ہے اور ضرورت ہے بھی۔ ہمارے یہاں میٹھا پانی بہت کم ملتا ہے۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ٹیوب ویل بھی صحیح کام نہیں کررہے۔جب پانی کا یہ مسئلہ ہے تو پھر اور بھی ہوں گے۔ ابھی تک نواز شریف صاحب نے ایک ارب روپے کا اعلان کیا ہے جو کہ بہت کم ہیں۔‘‘

خیبرپختوان خواہ کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے ان قبائلی خاندانوں کی امداد کے لیے اس سے پہلے بھی نواز انتظامیہ سے صوبے کو فنڈ جاری کرنے کا مطالبہ کیا جا چکا ہے۔ تاہم وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا تھا۔

’’یہ صوبے یا وفاق کے اختیارات کی تقسیم کا معاملہ نہیں۔وفاق نے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔ صوبے کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہیئں۔ وہ صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں ہم ان کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور جو بھی ممکن مدد ہو سکتی ہے وہ جاری رہے گی۔‘‘

وفاق میں حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف کی جانب سے 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں اور انتخابی اصلاحات نا ہونے پر احتجاجی ریلی کے اعلان کے بعد نواز انتظامیہ کے ساتھ تحریک انصاف کے تعلقات میں کچھ تناؤ دیکھا جا رہا ہے اور حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسے غیر ضروری اور جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے کا اقدام قرار دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG