رسائی کے لنکس

'مسلم فوجی اتحاد میں شمولیت پر پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا'


فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عارف علوی کا کہنا تھا کہ حکومت ایسے فیصلوں میں پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لے رہی۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی زیر قیادت مسلم ممالک کے فوجی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کے معاملے پر وہ پارلیمان میں حکومت سے جواب طلب کرے گی۔

دسمبر 2015ء میں سعودی عرب نے 34 سے زائد اسلامی ملکوں پر مشتمل ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد دہشت گردی اور خاص طور پر شدت پسند تنظیم داعش کے خطرے سے نمٹنا بتایا گیا۔

اس اتحاد میں سعودی عرب کا حریف ملک ایران اور بعض دیگر شیعہ ریاستیں شامل نہیں۔

حال میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ اتحاد میں شامل فورسز کی قیادت کے لیے سعودی حکومت نے پاکستان کے سابق آرمی چیف راحیل شریف کی خدمات حاصل کرنے کی باضابطہ درخواست کی تھی جسے منظور کر لیا گیا ہے۔

رواں ہفتے ہی پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ پاکستان اس اتحاد کا حصہ ہے اور چونکہ یہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے بنایا گیا لہذا اس میں شمولیت سے مشرق وسطیٰ سے متعلق غیر جانبدار رہنے کی پاکستان کی پالیسی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عارف علوی کا کہنا تھا کہ حکومت ایسے فیصلوں میں پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لے رہی۔

"معاملہ یہ ہے کہ پتا ہی نہیں کہ اتحاد ہے کیا اس کے قواعد و ضوابط کیا ہیں اس کا طریقہ کار کیا ہوگا۔"

تاہم حکومتی جماعت کے قانون ساز میاں عبدالمنان کہتے ہیں کہ تمام فیصلے ملکی مفاد میں کیے جاتے ہیں لیکن ان کے بقول حزب مخالف ہر معاملے پر تنقید کرتی نظر آتی ہے۔

"وزیردفاع کہہ چکے ہیں کہ ہم اسے پارلیمان میں لے کر آئیں گے، پارلیمان میں لے بھی آئیں تو کیا (پی ٹی آئی کے) تیس ارکان ہیں اور وہ بھی پورے نہیں آتے پارلیمان میں۔"

پی ٹی آئی اس معاملے کو قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG