رسائی کے لنکس

اورکزئی میں مشتبہ ٹھکانوں پر بمباری، 22 جنگجو ہلاک


اورکزئی میں مشتبہ ٹھکانوں پر بمباری، 22 جنگجو ہلاک

اورکزئی میں مشتبہ ٹھکانوں پر بمباری، 22 جنگجو ہلاک

پاکستان کے سرکاری ٹی وی نے اتوارکو خبر دی ہے کہ قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں اور لڑاکا ہیلی کاپٹروں سے کی گئی بمباری میں 22 طالبان جنگجو ہلاک اورمتعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ تاہم ان تازہ حملوں کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات معلوم نہیں ہو سکی ہیں۔

اورکزئی ایجنسی پاکستانی طالبان کا ایک مضبوط گڑھ ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ سینکڑوں عسکریت پسندوں نے دیگر شورش زدہ علاقوں میں جاری فوجی کارروائیوں سے بچنے کے لیے اس علاقے میں پناہ لے رکھی ہے۔

مارچ کے اواخر میں پاکستانی فوج کی مدد سے ایف سی کے دستوں نے اس قبائلی علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف ایک بھرپور آپریشن کا آغاز کیا تھا اور سرکاری دعووں کے مطابق اب تک ان کارروائیوں میں سینکڑوں جنگجوؤں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جب کہ دو درجن سے زائد فوجی اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

گذشتہ ماہ فوجی حکام نے اورکزئی میں فوجی آپریشن کامیابی سے مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم علاقے میں وقتاً فوقتاً جھڑپوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

دریں اثنا مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے ہفتہ کے روز قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر بڑا حملہ کر کے تین فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا جب کہ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں حکام نے 12 حملہ آوروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حملے میں متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے جنھیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم فوجی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ فوج نے گذشتہ برس اکتوبر میں انتہا پسند تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کے خلاف جنوبی وزیرستان میں ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا تھا اور یہ کارروائی ایک ایسے وقت شروع کی گئی تھی جب اس تنظیم کے جنگجوؤں نے ملک کے اندر پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ کردیا تھا۔

حکام کے بقول جنوبی وزیرستان میں خاصی حد تک حکومت کی عملداری بحال کر دی گئی ہے اور لڑائی کے باعث دوسرے علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنے والے ہزاروں خاندانوں کواپنے گھروں کو واپس بھیجنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

گذشتہ جمعہ کو مہمند ایجنسی میں کیے گئے دو طاقتور خودکش بم دھماکوں میں کم ازکم 105 افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ہدف طالبان مخالف جرگے کے ارکان تھے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے اس تاثرکو غلط قرار دیا ہے کہ طالبان کی تازہ کارروائیاں شدت پسندوں کے دوبارہ منظم ہونے کی غمازی کرتی ہیں۔ ان کے بقول بعض حالیہ واقعات میں افغانستان کی طرف سے آنے والے عسکریت پسند ملوث ہیں اور پاکستان نے افغان و اتحادی افواج کو اس سنگین صورت حال کے بارے میں آگاہ کردیا ہے۔

XS
SM
MD
LG