رسائی کے لنکس

قبائلی علاقوں اور بنوں میں تشدد کے واقعات میں چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سکیورٹی ذرائع کے مطابق منگل کو علی الصبح شیرین درہ کے علاقے میں شدت پسندوں نے سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جسے ناکام بنا دیا گیا۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 15 جنگجو ہلاک بھی ہوئے۔

پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں تشدد کے تین مختلف واقعات میں کم از کم چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک جب کہ 15 جنگجو مارے گئے۔

قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک جب کہ جوابی کارروائی میں 15 مشتبہ دہشت گرد مارے گئے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق منگل کو علی الصبح شیرین درہ کے علاقے میں شدت پسندوں نے سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جسے ناکام بنا دیا گیا۔

واقعے میں چھ اہلکار زخمی بھی ہوئے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ہونے والے واقعات اور ان میں ہونے والے جانے نقصانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

اورکزئی میں اس سے قبل بھی شدت پسندوں کی طرف سے سکیورٹی فورسز پر ہلاکت خیز حملے دیکھنے میں آ چکے ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں بھی لوئر اورکزئی میں ہونے والی ایک جھڑپ کے دوران چھ سکیورٹی اہلکار اور 20 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔

پاکستان کی سات قبائلی ایجنسیوں میں سے اور کزئی واحد ایجنسی ہے جس کی سرحد افغانستان سے نہیں ملتی۔ لیکن اس سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں گزشتہ ماہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔

خیبر ون نامی اس آپریشن میں اب تک درجنوں شدت پسندوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے جب کہ جھڑپوں میں متعدد سکیورٹی اہلکار بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

دریں اثناء ایک اور قبائلی علاقے باجوڑ میں منگل کو ہونے والے ایک بم دھماکے میں لیویز کے دو اہلکار ہلاک اور ایک مقامی انتظامی عہدیدار سمیت تین افراد زخمی ہوگئے۔

مقامی ذرائع کے مطابق تحصیل سالارزئی میں سڑک میں نصب ریموٹ کنٹرول بم میں اس وقت دھماکا ہوا جب یہاں سے تحصیلدار کی گاڑی گزر رہی تھے۔

دھماکے سے تحصیلدار کی حفاظت پر مامور لیویز کے دو اہلکار ہلاک جب کہ وہ خود اور دیگر دو افراد زخمی ہو گئے۔

بتایا جاتا ہے کہ تحصلیدار علاقے میں جاری انسداد پولیو مہم کا جائزہ لینے کے لیے جارہے تھے۔

پاکستان میں انسداد پولیو مہم کے رضاکاروں اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں پر گزشتہ دو سالوں سے ہلاکت خیز حملے ہوتے آرہے ہیں جس کی وجہ سے یہ مہم بری طرح متاثر ہوئی۔

اسی بنا پر ملک میں پولیو سے متاثرہ کیسز میں تشویشناک تک اضافہ دیکھا جارہا ہے اور اس سال پاکستان میں پولیو کے 237 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

اُدھر صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع بنوں میں ایک بم دھماکے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے۔

XS
SM
MD
LG