رسائی کے لنکس

ڈرون طیارے سے داغے گئے میزائلوں کا ہدف اورکزئی ایجنسی اور شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے بلند خیل میں شدت پسندوں کا ایک مرکز تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی میں جمعرات کو مبینہ امریکی ڈرون حملے میں کم از کم 11 مشتبہ شدت پسند ہلاک جب کہ 15 افراد زخمی بھی ہوئے۔

ڈرون طیارے سے داغے گئے میزائلوں کا ہدف اورکزئی ایجنسی اور شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے بلند خیل میں شدت پسندوں کا ایک مرکز تھا۔

افغان سرحد سے محلقہ قبائلی خطے میں دو روز کے دوران یہ دوسرا ڈرون حملہ تھا۔ بدھ کو شمالی وزیرستان میں ایک ایسے ہی حملے میں کم از کم پانچ مشتبہ شدت پسند مارے گئے تھے۔

پاکستانی وزارت خارجہ سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے سے ان دونوں ڈرون حملوں پر احتجاج کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے مقامی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور پاکستان کے لیے کسی طور قابل قبول نہیں۔

افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں 2004ء سے مبینہ ڈرون حملے کیے جاتے رہے ہیں اور میزائل حملوں کا ہدف جنوبی اور شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانے رہے ہیں۔

اسلام آباد کا موقف ہے کہ ان ’’غیر قانونی‘‘ حملوں سے دہشت گردی کے اس کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ شدت پسند ان حملوں میں عام قبائلیوں کی ہلاکتوں کو عوامی ہمدردی کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون القاعدہ اور اس سے منسلک شدت پسند گروپوں کے خلاف ایک موثر ہتھیار بن چکے ہیں اور انہیں اس مہارت سے استعمال کیا جاتا ہے کہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔
XS
SM
MD
LG