رسائی کے لنکس

’حقائق سے چشم پوشی کے پاکستان کے لیے تباہ کن نتائج‘

  • یاسر منصوری

ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ

ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بات ہر خاص و عام کے لیے باعث تعجب ہو گی کہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد فوجی تنصیبات کے قرب و جوار میں چھپا بیٹھا تھا لیکن کسی کو اس کے بارے میں علم نہیں تھا۔

اسامہ بن لادن کی ایک حساس فوجی علاقے میں روپوشی اور بلآخر امریکی آپریشن میں ہلاکت نے پاکستان کو ایک کٹھن موڑ پر لا کھڑا کیا ہے اور عام تاثر ہے کہ اگر اس معاملے سے جڑے حقائق پر سے پردہ نا اُٹھایا گیا تو آنے والے دونوں میں پاکستان عالمی برادری میں تنہا رہ جائے گا۔

اندرون ملک حزب اختلاف، سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ کے علاوہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی پاکستان پر روز بروز دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ انتہائی موثر تسلیم کی جانے والی ملک کی خفیہ ایجنسی ’انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)‘ القاعدہ کے رہنما کی موجودگی سے آخر کیوں کر لا علم رہی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بات ہر خاص و عام کے لیے باعث تعجب ہو گی کہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد فوجی تنصیبات کے قرب و جوار میں چھپا بیٹھا تھا لیکن کسی کو اس کے بارے میں علم نہیں تھا۔

عائشہ صدیقہ

عائشہ صدیقہ

دفاعی تجزیہ نگار عائشہ صدیقہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس تمام معاملے اور ایبٹ آباد میں ہونے والی غیر معمولی کارروائی کی وضاحت صرف پاکستانی فوج ہی کر سکتی ہے جو اُن کے بقول اس بارے میں یقینا باخبر ہو گی۔ ’’پاکستان ایک مشکل صورت حال میں پھنس چکا ہے اور فوج کا احتساب کیے بغیر اس مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔‘‘

امریکہ پر ستمبر 2001ء میں ہونے والے حملوں کے منصوبہ ساز کی پاکستان میں مبینہ طور پر کئی سالوں سے موجودگی ثابت ہونے پر متعدد ممالک کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بے شمار سوالات کے جوابات دینا ہیں۔

گذشتہ دس سالوں کے دوران پاکستان کا موقف رہا کہ ملک کے ادارے اسامہ بن لادن کی کھوج میں ہیں تاہم اُس کی پاکستانی حدود میں موجودگی کے امکانات انتہائی محدود ہیں۔

اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہونے والے امریکی آپریشن کے بعد پاکستانی وزرات خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کے ممکنہ ٹھکانے سے متعلق 2009ء میں ہی امریکہ کو معلومات فراہم کرنا شروع کر دی تھیں جن کی مدد سے القاعدہ کے رہنما کو ڈھونڈ نکالنا ممکن ہوا۔ خود امریکہ نے بھی پاکستان کے تعاون کا اعتراف کیا ہے۔

پاکستانی عہدے دار تسلیم کرتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کا خاتمہ ایک مشترکہ ہدف تھا لیکن وہ امریکہ کی فوجی کارروائی پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

معروف تجزیہ نگار ماریہ سلطان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے یک طرفہ آپریشن کر کے پاکستان کو حیرت زدہ کر دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا کیوں کہ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد شکوک و شبہات کی فضا میں شراکت داری ممکن نہیں۔ ”امریکہ سے تعلقات کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن حدود کا تعین ضروری ہے۔“

ماریہ سلطان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ نے اپنے سب سے قریبی اتحادی کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے تو پاکستان یہ سوچنے میں حق بجانب ہو گا کہ ایسی شراکت داری کا کیا فائدہ۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اُس کی سیاسی اور فوجی قیادت کو بن لادن کے خلاف آپریشن کی پیشگی اطلاع نہیں تھی اور امریکی فورسز ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہاڑی سلسلوں کی آڑ لیتے ہوئے ایبٹ آباد پہنچیں۔

مبصرین کے مطابق پاکستانی حکومت کی جانب سے محتاط رویہ اپنانے کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو اس مقام پر پہنچنے سے روکنا تھا جہاں سے واپسی ممکن نا ہو۔

XS
SM
MD
LG