رسائی کے لنکس

بن لادن کی ہلاکت کی پہلی برسی، حفاظتی اقدامات سخت


ایبٹ آباد میں مسمار کی گئی بن لادن کی رہائش گاہ جہاں امریکی آپریشن میں اسے ہلاک کیا گیا

ایبٹ آباد میں مسمار کی گئی بن لادن کی رہائش گاہ جہاں امریکی آپریشن میں اسے ہلاک کیا گیا

ایبٹ آباد میں فوجی افسران کے معروف تربیتی مرکز سے کچھ ہی فاصلے پر واقع القاعدہ کے مفرور لیڈر اسامہ بن لادن کو ایک سال قبل دو مئی کو امریکی اسپیشل فورسز نے یکطرفہ آپریشن کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ بدھ کو اس واقعہ کی پہلی برسی کے موقع پر پاکستانی حکام نے ممکنہ دہشت گرد حملوں کی حوصلہ شکنی کے لیے ملک بھر میں خصوصی حفاظتی انتظامات کے احکامات جاری کیے ہیں۔

وزارت داخلہ اور پولیس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ خاص طور پر حساس تنصیبات اور مقامات کی طرف جانے والے راستوں کی ناکہ بندی کی گئی ہے جب کہ دارالحکومت کی عام شاہراہوں پر بھی گاڑیوں کی معمول سے زیادہ ’چیکنگ‘ کی جا رہی ہے۔

اسامہ بن لادن کی ملک میں موجودگی اور امریکی آپریشن میں اس کی ہلاکت کے پاکستان پر ممکنہ اثرات کے بارے میں تحقیق کرنے والے فوج کے سابق بریگیڈئیر شوکت قادر کہتے ہیں کہ خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد القاعدہ کے جنگجو تو دنیا کے دیگر ملکوں خاص طور پر عرب ممالک کی طرف فرار ہو چکے ہیں لیکن ان کی حامی پاکستانی شدت پسند تنظیموں سے نمٹنا ملک کے لیے بدستور ایک خطرہ ہے۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ شوکت قادر

بریگیڈیئر ریٹائرڈ شوکت قادر

’’اسامہ بن لادن کا اب تک تو (پاکستان میں) کوئی اثر نہیں رہا وہ تو میرا خیال ہے کہ ایک برا خواب تھا جو گزر گیا۔ مگر القاعدہ کا اثر ہم پر ہے اور القاعدہ کے حمایتی اب بھی ہمارے پاس ہیں جو ہمارے لیے تشویشناک بات ہے۔‘‘

القاعدہ کے سربراہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی اور اس کے خلاف امریکی آپریشن کے بارے میں ایک سال بعد بھی پاکستان میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے کیوں کہ اس واقعہ کے حقائق اور اسباب جاننے کے لیے قائم ایبٹ آباد کمیشن تاحال اپنی رپورٹ تیار نہیں کر سکا ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم اس عدالتی کمیشن نے فوج، فضائیہ، پولیس، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے عہدیداروں اور سابق سفارت کاروں سمیت 170 سے زائد افراد کے بیانات قلمبند کیے ہیں۔

امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی بھی ان افراد میں شامل ہیں جو ایبٹ آباد کمیشن کے سامنے پیش ہوئیں۔ انھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کمیشن کی رپورٹ کے اجرا میں تاخیر پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

ملیحہ لودھی

ملیحہ لودھی

’’میرے خیال میں کمیشن کا کام کافی پیچدہ تھا۔۔۔۔ لیکن میں سمجھتی ہوں کہ ضروری تھا کہ رپورٹ تیار کر لی جاتی کیوں کہ پاکستانی عوام بھی جواب مانگتے ہیں کہ یہ کیسے ہوا کہ پاکستان کی خودمختاری کی پامالی کی گئی اور کسی کو یہاں پتہ نہیں چلا۔ دوسرا یہ کہ اسامہ بن لادن اتنے عرصے سے کیسے رہ رہا تھا اور کسی کو پتا تک نہیں تھا، میرے خیال میں یہ بہت اہم سوال ہیں۔‘‘

بظاہر اسی تنقید کے جواب میں ایبٹ آباد کمیشن نے بدھ کو اپنے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ رپورٹ کی تیاری آخری مراحل میں ہے اور رواں ماہ اسے حکومت کو پیش کر دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حتمی رپورٹ میں ان اسباب کا بھی ذکر کیا جائے گا جو اس کی تیاری میں تاخیر کی وجہ بنے۔

بن لادن یکطرفہ امریکی آپریشن میں ہلاکت کے بعد پاک امریکہ تعلقات کشیدہ ہو گئے جن کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

XS
SM
MD
LG