رسائی کے لنکس

سترلاکھ پاکستانی تارکین وطن کا پچیس فیصد سعودی عرب میں آباد

  • حسن سید

سروے کے اجرا کی تقریب میں موجودہ پائیڈ کے عہدیدار جی ایم عارف

سروے کے اجرا کی تقریب میں موجودہ پائیڈ کے عہدیدار جی ایم عارف

سروے سے معلوم ہوا کہ زیر جائزہ تارکین وطن نے اپنی آمدن اور بچت کا اوسطاً ستر فیصد وطن واپس بھیجا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اہل خانہ کا معیار زندگی بلند ہوا، گھر کی خواتین سماجی اور اقتصادی لحاظ سے بااختیار ہوئیں اور بچے جو مفلسی کی وجہ سے مختلف شعبوں میں جبری مشقت کرتے تھے انہیں اس کام سے نجات مل گئی۔

ایک آزاد جائزے کے مطابق لاکھوں تارکین وطن کی طرف سے پاکستان بھیجے جانے والی محصولات سے ان کے اہل خانہ کی غربت میں کمی اور سماجی واقتصادی حالت میں بہتری آ رہی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ اگرپاکستانیوں کا بہتر روز گار اور مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جانے کا رجحان بڑھتا چلا گیا تو آگے چل کر پاکستان کو ڈاکٹروں، انجینئروں سمیت پیشہ وار افراد کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت تقریباً ستر لاکھ پاکستانی امریکہ، لاطینی امریکہ، یورپ ،مشرق وسطیٰ اور سعودی عرب سمیت دینا کے مختلف حصوں میں کام کر رہے ہیں۔

ایک بین الاقوامی تنظیم آئی او ایم کی مالی مدد سے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس یعنی ’’پائیڈ‘‘ نے ایک جائزہ مرتب کیا ہے جس کے تحت ملک کے شہری اور دیہی علاقوں میں پانچ سو سے زائد ایسے خاندانوں کے مالی حالات کا جائزہ لیا گیا جن کا کم از کم ایک فرد سعودی عرب میں کام کر رہا ہے۔

سعودی عرب وہ ملک ہے جہاں کل پاکستانی تارکین وطن کا پچیس فیصد روزگار کما رہاہے۔

سروے سے معلوم ہوا کہ زیر جائزہ تارکین وطن نے اپنی آمدن اور بچت کا اوسطاً ستر فیصد وطن واپس بھیجا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اہل خانہ کا معیار زندگی بلند ہوا، گھر کی خواتین سماجی اور اقتصادی لحاظ سے بااختیار ہوئیں اور بچے جو مفلسی کی وجہ سے مختلف شعبوں میں جبری مشقت کرتے تھے انہیں اس کام سے نجات مل گئی۔

جائزہ مرتب کرنے والے ماہر معاشیات اور پائیڈ کے عہدیدار جی ایم عارف نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ پاکستانیوں کے بیرون ملک روزگار کے لیے جانے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے جو ان کے مطابق ایک خوش آئند امر ہے کیوں کہ ان کی بھیجے ہوئے زر مبادلہ سے جہاں غریب اہل خانہ کو نسبتاً خوشحال زندگی میسر آ رہی ہے وہیں زر ترسیل سے ملکی معیشت کو بھی فائدہ ہو رہا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ستر لاکھ تارکین وطن سالانہ آٹھ ارب ڈالر کا جو زر مبادلہ وطن بھیجتے ہیں اس میں سے صرف چالیس فیصد ہی حکومت کے وضع کردہ ذرائع سے آ رہا ہے جبکہ باقی ساٹھ فیصد یا تو براہ راست دوست احباب یا پھر ہنڈی کے غیر قانونی طریقے سے آ رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی معیشت ایک بڑے فائدے سے محروم ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق تارکین وطن کے بینکوں کے ذریعے پیسے نہ بھیجنے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ایک ناخواندہ یا نیم خواندہ پاکستانی کے لئے بینک کا طریقہ کار پیچیدہ ہے۔

جی ایم عارف نے بتایا کہ سالانہ تقریباً چارلاکھ پاکستانی بہتر روزگار کی غرض سے باہر جا رہے ہیں جن میں دس فیصد ہنرمند یا پیشہ ور افراد ہیں۔

ماہرمعاشیات کے مطابق یہ شرح فی الحال باعث تشویش نہیں لیکن اگر ہنر مند افراد کو ملک کے اندر پر کشش مواقع فراہم نہ کیے گئے تو با صلاحیت افراد کے انخلا میں اضافہ اندرون ملک ڈاکٹروں ، انجینئروں اور پروفیسروں کی قلت کا سبب بھی ہو سکتا ہے جس کے یقیناً منفی نتائج ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG