رسائی کے لنکس

اسلام آباد میں ’رقص درویش‘


اسلام آباد میں ’رقص درویش‘

اسلام آباد میں ’رقص درویش‘

شفیق فاروقی نے کہا کہ ہمارے ہاں ملنگ اور درویشوں کی موسیقی بلند آہنگ ہوتی ہے جب کہ رقص رومی بہت مدھر اور دھیمی موسیقی پر ہوتا ہے جو کہ درویش کی نفاست،اس کی زندگی کی سادگی کو ظاہر کرتی ہے جس سے لوگ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔

کسی بھی صوفی بزرگ کے مزار پر جائیں تو وہاں دھمال کرتے ، اپنے ہی انداز میں رقص کرتے یا پھر کسی کونے میں بیٹھا کوئی نہ کوئی شخص خاموشی سے جذب ومستی کی کسی منزل کی جستجو میں سر کو جنبش دیتا دکھائی دیتا ہے۔ وجد کی ان کیفیات کو تیرھویں صدی میں مولانا جلال الدین رومی کے پیروکاروں نے ایک منظم شکل میں متعارف کروایا جسے سَیما کہتے ہیں اور عام طور پر یہ رقصِ درویش اور رقصِ رومی بھی کہلاتا ہے۔

صوفیا کی تعلیمات اور ان کے فلسفلے کو دیکھا جائے تو اس بات کا واضح پتا چلتا ہے کہ موسیقی اور رقص پر مذہب میں کوئی قدغن نہیں بشرطیکہ وہ اپنے اندر مقصدیت رکھتا ہواور جس کا محور اور منبہ وہ ذات ہو جو کائنات کی خالق ہے۔ رقص درویش سے متعلق دلچسپ گفتگو کا موقع معروف مصور شفیق فاروقی کے ساتھ ایک نشست میں ملا جن کے فن پاروں کی نمائش ان دنوں اسلام آباد کی تنزارا آرٹ گیلری میں جاری ہے۔

اسلام آباد میں ’رقص درویش‘

اسلام آباد میں ’رقص درویش‘

شفیق فاروقی نے بتایا کہ ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ ترکی میں گزرا جہاں ان درویشوں کو رقص کرتے ہوئے بھی دیکھا جس سے وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔انھوں نے بتایا کہ وہ علامہ اقبال کی شاعری پر کام کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے بقول جب اقبال کی فلسفے کا مطالعہ کریں تو مولانا روم کو کیسے بھولا جاسکتا ہے اور اس پر کام کرتے ہوئے درویشوں کے اس رقص کا شامل ہونا بہت ضروری ہے اور یہ رومی اور اقبال پر ان کے کام کا آغاز ہے۔

شفیق فاروقی نے کہا کہ ہمارے ہاں ملنگ اور درویشوں کی موسیقی بلند آہنگ ہوتی ہے جب کہ رقص رومی بہت مدھر اور دھیمی موسیقی پر ہوتا ہے جو کہ درویش کی نفاست،اس کی زندگی کی سادگی کو ظاہر کرتی ہے جس سے لوگ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔

انھوں نے اپنی تصویروں میں رقص درویش کے اسی فلسفے کو اجاگر کیا ہے کہ زمین پر گول گول گھومتا نظرآنے والا درویش آہستہ آہستہ خود کو کائنات میں گردش کرتی ہوئی دوسری چیزوں کے ساتھ گھومتا محسوس کرتا ہے اور اس کاسفر اپنے محوریعنی خالق کائنات کی طرف ہوتا ہے۔

اپنے فن پاروں کی تفصیلات بتاتے ہوئے شفیق فاروقی نے بتایا کہ ان تصویروں میں نیچے نظر آنے والی روشنی زمین کو ظاہر کرتی ہے اور پھر درمیان میں نظر آنے والے رنگ خلا اور انسان کے موڈ کو ظاہر کرتے ہیں اور پھر اوپر کہیں کہیں نظر آنے والی روشنی منزل ہے جہاں وہ درویش یا کوئی شخص پہنچنا چاہتا ہے۔

یہ نمائنش 16 دسمبر تک جاری ہے۔

یہ نمائنش 16 دسمبر تک جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انسان کاخدا کی طرف جو لگاؤ اور ربط ہے وہ اسے اپنی ان تصویروں میں ابھارنے کی کوشش کررہے ہیں اور گردو پیش نظر آنے والی اسلام کے نام پر انتہا پسندی ان کے بقول شعبدہ بازی ہے جب کہ اسلام تو نام ہی محبت کا ہے، بندے کی اپنے رب سے محبت اور پھر اس کی بندگی کے لیے اس کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل۔

XS
SM
MD
LG