رسائی کے لنکس

وزیراعظم اور ان کے بچوں میں رقوم کی لین دین کا ریکارڈ طلب


سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

پاناما لیکس معاملے کی سماعت کرنے والے عدالت عظمیٰ کے بینچ نے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے درمیان رقوم کی منتقلی کا ریکارڈ پیش کرنے کا کہا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ میں بدھ کو ہونے والی سماعت میں نواز شریف کے وکیل مخدم علی خان نے اپنے دلائل جاری رکھے۔

ان کا کہنا تھا کہ تھا وزیراعظم کو ان کے بیٹے حسین نواز نے 2011ء میں 19 لاکھ ڈالر تحفتاً دیے۔

اس پر بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ حسین نواز اس بات کی وضاحت پیش کریں کہ انھوں نے یہ رقم کیسے حاصل کی۔

بینچ کے سربراہ جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ غیر قانونی طریقے سے رقم بیرون ملک بھیجتے ہیں اور بعد میں اسے ملک میں واپس منتقل کر دیتے ہیں۔ ان کے بقول وزیراعظم کے بیٹے کو اس رقم کی ذرائع پیش کرنا ہوں گے۔

روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی۔

بدھ کو وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل کا آغاز پر اس بات کو دہرایا کہ مریم نواز اپنے والد کی زیر کفالت نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور ان کے بچوں کے درمیان رقوم کا لین دین بینکوں کے ذریعے ہوا ہے جس کا تمام ریکارڈ موجود ہے۔

ان کے بقول حسین نواز کی طرف سے دی گئی رقم وزیراعظم نے اپنی بیٹی مریم نواز کو دی جنہوں نے اس سے زمین خریدی۔

وکیل نے بینچ کو بتایا کہ مریم نواز کا نام اس بنا پر زیر کفالت افراد کے خانے میں لکھا گیا تھا کیونکہ ان انکم ٹیکس گوشواروں کے فارم میں کوئی اور متعلقہ خانہ موجود نہیں تھا۔

منگل کو مریم نواز نے عدالت عظمیٰ میں مزید دستاویزات جمع کروائی تھیں جن میں بتایا گیا تھا کہ وہ 1992ء میں اپنی شادی کے بعد سے والد نواز شریف کی زیر کفالت نہیں ہیں۔

حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کر رکھی ہے کہ وزیراعظم پاناما لیکس کے معاملے پر دروغ گوئی کے مبینہ طور پر مرتکب ہوئے جس سے وہ صادق اور امین نہیں رہے لہذا انھیں نااہل قرار دیا جائے۔

حکومت ان الزامات کو مسترد کر چکی ہے۔

سماعت کے بعد حسب معمول تحریک انصاف اور حکمران جماعت مسلم لیگ نے راہنماؤں نے سپریم کورٹ کے باہر اپنے اپنے موقف کے حق اور مخالفین کے دلائل کے خلاف بیانات دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔

XS
SM
MD
LG