رسائی کے لنکس

’آف شور‘ کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک اثاثے اور جائیدادیں بنانے سے متعلق اپریل 2016 کے اوائل میں پاناما کی ایک لافرم موساک فونسیکا کی منظر عام پر آنے والی معلومات نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی۔

پاناما لیکس:

پاناما دستاویزات کا انکشاف کرنے والی تنظیم ’انٹرنیشنل کنسورشیئم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس‘ (آئی سی آئی جے) سے وابستہ لگ بھگ چار سو صحافیوں نے ایک کروڑ 15 لاکھ سے زائد دستاویزات کا ایک سال تک باریک بینی سے جائزہ لیا۔

جن افراد کے نام پاناما پیپرز میں آئے اُن میں دنیا بھر کے 12 موجودہ یا سابق سیاسی قائدین بھی شامل ہیں۔

شریف خاندان:

پاناما پیپرز میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے دو بیٹوں حسین اور حسن نواز کے علاوہ بیٹی مریم نواز کے نام بھی سامنے آئے۔

جس کے بعد حزب مخالف کی جماعتوں، خاص طور پر تحریک انصاف نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔

وزیر اعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

وزیر اعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

اس بارے میں اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے خود وزیراعظم کو دو مرتبہ اس معاملے پر ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے ذریعے قوم سے خطاب کرنا پڑا اور اُنھوں نے حزب مخالف کے مطالبے کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات سپریم کورٹ کی نگرانی میں کرانے کے لیے چیف جسٹس کو خط بھی لکھا۔

جب کمیشن بننے میں تاخیر ہوتی چلی گئی تو تحریک انصاف نے دو نومبر 2016 کو اسلام آباد کو ’لاک ڈاؤن‘ یعنی بند کرنے کی کال دی۔

سربراہ تحریک انصاف عمران خان (فائل فوٹو)

سربراہ تحریک انصاف عمران خان (فائل فوٹو)

لیکن پھر 28 اکتوبر 2016ء کو اس معاملے کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ تشکیل دے دیا۔۔۔ پہلے اس معاملے کی سماعت اُس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کی۔

لیکن دسمبر 2016ء میں اُن کی ریٹائرڈمنٹ کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کے دیگر جج صاحبان میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الحسن شامل ہیں۔

اس پانچ رکنی بینچ نے 23 فروری کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

درخواست گزار:

سپریم کورٹ میں پاکستان تحریکِ انصاف کے علاوہ جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے پاناما لیکس سے متعلق درخواستیں دائر کیں۔

26000 دستاویزات:

پاناما لیکس سے متعلق دائر درخواستوں میں لگ بھگ 26000 دستاویزات عدالت میں جمع کروائی گئیں لیکن بینچ میں شامل ججوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ 99 فیصد سے زائد دستاویزات متعلقہ نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ آف پاکستان (فائل فوٹو)

قطری شہزادے کا خط:

وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کے زیر استعمال لندن کے ایک مہنگے علاقے مے فیئر میں موجود فلیٹس کے بارے میں وزیراعظم کے بیٹوں کا موقف ہے کہ ان فلیٹس کی خریداری کے لیے رقم پاکستان سے منتقل نہیں ہوئی اور اپنے اس موقف کی دلیل کے لیے انھوں نے قطر کے ایک شہزادے کا خط بطور دستاویزی ثبوت پیش کیا تھا، جس میں کہا گیا ہے کہ فلیٹس کی خریداری کے لیے قطر کے شاہی خاندان کے ساتھ ہونے والی کاروباری شراکت سے حاصل کردہ رقم خرچ ہوئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG