رسائی کے لنکس

”فوجی مداخلت سے تحفظ دینے کا بل اس ماہ پارلیمان میں“

  • حسن سید

”فوجی مداخلت سے تحفظ دینے کا بل اس ماہ پارلیمان میں“

”فوجی مداخلت سے تحفظ دینے کا بل اس ماہ پارلیمان میں“

مجوزہ بل کے مقاصد میں دیگر معاملات کے علاوہ آئین کے آرٹیکل چھ میں تبدیلی لا کر فوجی مداخلت کو قابل تعزیر جرم قرار دینا ہے جس کا ارتکاب کرنے والے اور اسے تحفظ دینے والے دونوں ہی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلایا جا سکے گا

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی اموربابر اعوان کا کہنا ہے کہ آئینی اصلاحات کے لیے قائم خصوصی کمیٹی نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے حوالے سے جو سفارشات مرتب کی ہیں وہ اسی ماہ پارلیمان میں بحث کے لیے پیش کی جائیں گی جس کی منظوری کے بعد ان کے بقول ملک میں فوجی مداخلت کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو سکے گا۔

جمعہ کے روز اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مجوزہ بل کے مقاصد میں دیگر معاملات کے علاوہ آئین کے آرٹیکل چھ میں تبدیلی لا کر فوجی مداخلت کو قابل تعزیر جرم قرار دینا ہے جس کا ارتکاب کرنے والے اور اسے تحفظ دینے والے دونوں ہی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلایا جا سکے گا۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ مجوزہ قانون کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کسی بھی قسم کی فوجی بغاوت اور آئین سے متصادم اقدامات کو تحفظ فراہم نہیں کر سکیں گی۔

اس سوال پر کہ کیا فوجی بغاوت کو تحفظ دینے والے ججوں پر بھی فوجی بغاوت کا مقدمہ چلایا جا سکے گا بابر اعوان نے وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ”اٹھارھویں ترمیمی بل کی سفارشات ابھی حتمی نہیں ہیں لیکن یہ بات بہر حال مجوزہ قانون میں شامل کرنے کی تجویز موجود ہے کہ ایسی کسی کارروائی کو تحفظ فراہم نہ کیا جائے“۔

انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں موجودہ قوانین کے حوالے سے یہ تنقید سامنے آئی ہے کہ یہ زیادہ موٴثرنہیں ہیں اور اسی وجہ سے اب ترمیم لائی جارہی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان نے اپنی تاریخ کا آدھے سے زائد عرصہ فوجی حکومتوں کے زیر اثر گزارا ہے اور جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹا جاتا رہا ہے۔

بابر اعوان کے بقول اٹھارویں آئینی ترمیم کے بل کا مسودہ جسے مختلف سیاسی جماعتوں کی نمائندگی سے تشکیل دیا گیا ہے جمہوری حکومتوں کو تحفظ فراہم کرے گا ۔

آئینی اصلاحاتی کمیٹی اپنی سفارشات میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں آئین میں شامل کیے گئے متنازعہ آرٹیکل 58-2(B) کو ختم کرنے کا بھی جائزہ لے رہی ہے جس کے تحت صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار حا صل ہے۔

XS
SM
MD
LG