رسائی کے لنکس

” صدر زردار ی نہ چاہتے تو اٹھارویں ترمیم کا بل پیش نہ ہوتا“

  • ن ہ

” صدر زردار ی نہ چاہتے تو اٹھارویں ترمیم کا بل پیش نہ ہوتا“

” صدر زردار ی نہ چاہتے تو اٹھارویں ترمیم کا بل پیش نہ ہوتا“

منگل کو وفاقی کابینہ کے ایک خصوصی اجلاس میں مجوزہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری کے بعد اسے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بحث کے لیے پیش کر دیا گیا۔

بحث کا آغاز وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کیا اور ایوان سے اپنے خطاب میں اُنھوں نے ایک بار پھر کہا کہ اٹھارویں ترمیم کی منظوری سے 1973 ء کا آئین اصل شکل میں بحال ہو جائے گا جس سے انفرادی شخصیات کی بجائے ملک کے جمہوری ادارے مضبوط ہوں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کئی دہائیوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کی سیاسی و فوجی قیادت، پارلیمان اور عوام سب میں آئین میں اٹھارویں ترمیم کے مسودہ پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے اس لیے اس ترمیم کی منظوری پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

قومی اسمبلی میں بحث اور دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظوری کے بعد اٹھارویں ترمیم کا بل سینٹ یا ایوان بالا میں پیش کیا جائے گا۔ مقامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق رواں ہفتے کے آخرمیں پارلیمان کے دونوں ایوان اس بل کو منظور کرلیں گے۔ اس ترمیم کی منظوری کے بعد صدر آصف علی زرداری کو حاصل کئی اہم اختیارات پارلیمان اور وزیر اعظم کو واپس مل جائیں گے اور صدر محض ایک علامتی سربراہ مملکت ہوں گے۔

صدر کو اپنے طور پر حکومت اور پارلیمان کو تحلیل کرنے یا پھر ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

سابق فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں آئین میں متعارف کرائی گئی اسی شق کو استعمال کرتے ہوئے ماضی کے پاکستانی صدور نے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی منتخب حکومتوں کو برطرف کیا تھا۔ مستقبل میں فوجی بغاوتوں کی حوصلہ شکنی کے لیے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے آئین کی شق چھ میں تبدیلی کرکے اب دستور کو معطل کرنے کااقدام بھی سنگین غداری کے زمرے میں آئے گا۔

اس کے علاوہ ججوں کی تعیناتی کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک سات رکنی کمیشن تشکیل دیا جاے گا تاہم اس کی سفارشات کی حتمی منظوری کا اختیار پارلیمان کے ایک آٹھ رکنی کمیشن کو دیا گیا۔ لیکن آئینی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس شق سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوگی اور عین ممکن ہے کہ مجوزہ عدالتی کمیشن کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا جائے۔

مزید براں آئینی مسودے میں صوبہ سرحد کا نیا نام خبیر پختون خواہ تجویز کرنے کی شق کے خلاف خصوصاََ ہزارہ ڈویژن میں احتجاجی سلسلہ شروع ہو چکا ہے اوراس احتجاج کے قائدین نے ہزارہ ڈویژن کو صوبے کا درجہ دینے کے مطالبہ شروع کردیا ہے۔ اٹھارویں ترمیم میں دو سے زائد مرتبہ وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ بننے پر پابندی بھی ختم ہو جائے گی جس کا براہ راست فائدہ اپوزیشن لیڈر نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کو ہوگا۔

صدر زرداری (فائل فوٹو)

صدر زرداری (فائل فوٹو)

آئین میں اٹھارویں ترمیم کا بل پارلیمان میں منظوری کے لیے ایک ایسے وقت پیش کیا گیا ہے جب سپریم کورٹ کی طرف سے حکومت پر اس دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے کہ وہ صدر زرداری کے خلاف سوئس مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے فوری اقدامات کرے ۔

عدلیہ اور حکومت کے درمیان اس تنازع کے باعث پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور گذشتہ ہفتے یہ کہہ کر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے کہ وزیر قانون بابر اعوان اندرون ملک اور بیرونی عدالتوں میں بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھولنے کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اس لیے وہ اپنی آئینی ذمہ داریا ں نبھانے سے قاصر ہیں۔

XS
SM
MD
LG