رسائی کے لنکس

ملک میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات میں بتائی گئی حکومتی تعداد حزب اختلاف کے قانون سازوں کے بقول درست نہیں اور انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ہلاکتوں کی تعداد کو چھپارہی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بدھ کو پارلیمان کے ایوان بالا کو بتایا کہ 2008ء سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مشتبہ امریکی جاسوس طیاروں سے ہونے والے 317 حملوں میں صرف 67 عام شہری ہلاک ہوئے۔

سینیٹ میں جمع کروائے گئے تحریری بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ چھ سالوں میں ڈرون حملوں سے مرنے والے شدت پسندوں کی تعداد 2016 ہے۔

پاکستان خود اقوام متحدہ کی حال ہی میں جاری ہونے والی ایک عبوری رپورٹ میں تصدیق کر چکا ہے کہ ان حملوں میں اس کے 400 شہری ہلاک ہوئے۔

پاکستان امریکی ڈرون حملوں کو اپنی خود مختاری کے منافی اور شدت پسندی کے خلاف اسلام آباد کی کوششوں کے لیے نقصان دہ قرار دیتا ہے جبکہ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں کے خلاف موثر ہتھیار ہے۔

نواز شریف حکومت قبائلی علاقوں میں پاکستانی شدت پسندوں سے مذاکرات کی خواہاں ہے اور چوہدری نثار کے بقول اس سے متعلق حکومت نے اپنا کام مکمل کرتے ہوئے ایک لائحہ عمل ترتیب دے دیا ہے اور بہت جلد یہ عمل شروع کردیا جائے گا۔

تاہم انہوں نے مجوزہ بات چیت کے عمل کے طریقہ کار کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

وزیر داخلہ کی طرف سے یہ اعلان وزیراعظم نواز شریف کے لندن میں دیے گئے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا کہ چوہدری نثار کو طالبان سے مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

گزشتہ ماہ کے اوائل میں حکومت نے اس مجوزہ مذاکراتی عمل کے لیے ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں سے حمایت حاصل کی تھی مگر اس کے بعد ملک کے شمال مغرب میں شدت پسندی کی ایک نئی خونریز لہر نے نا صرف چند سیاسی جماعتوں کو اس سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا بلکہ انہوں نے حکومت سے بھی بات چیت کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا۔

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ملک کی سیکورٹی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’وہ (شدت پسند) پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے، وجود کو نہیں مانتے تو ان سے کیا بات ہوگی۔ جب دوسری پارٹی کی نیت ہی نہیں تو پتہ نہیں وہ (حکومت کو) کیا کیا چکر دیتے ہوں گے۔ یہ صرف وقت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اگر شدت پسند بات چیت سے معاملات حل کرنے میں سنجیدہ ہیں تو فوراً جنگ بندی کا اعلان کریں۔

تاہم حکمران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قانون ساز محمد جعفر اقبال کہتے ہیں کہ ملک مزید خونریزی کا متحمل نہیں ہو سکتا اور شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے طاقت کا استعمال آخری حربہ ہی ہونا چاہیے۔

’’کراچی میں کہتے تھے کہ حکومت کچھ نہیں کررہی مگر ہوم ورک کے بعد کارروائی سے اب خاطر خواہ نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔ اب بھی ویسے ہی لائحہ عمل کے تحت مذاکرات ہونے جارہے ہیں۔ تو ہر حالت میں مذکرات کو ترجیح دیں گے۔‘‘

وزیر داخلہ چوہدری نثار کی طرف سے سینیٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار ماہ میں ملک میں دہشت گردی کے 413 حملوں میں 358 افراد ہلاک ہوئے جو کہ حزب اختلاف کے قانون سازوں کے بقول درست نہیں اور انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ہلاکتوں کی تعداد کو چھپارہی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی عدیل کہتے ہیں ’’میں سمجھتا ہو کہ (یہ) نااہلی ہے کہ آپ کو پتہ ہے کہ ان دنوں کتنے لوگ شہید ہوئے ہیں لیکن اب چوہدری صاحب اگر آنکھیں بند کرلیں اور سیف ہاؤس میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھیں تو کیا کہا جا سکتا ہے۔‘‘

وزیر داخلہ کے اعداد و شمار میں جون سے اب تک صوبہ خیبرپختونخواہ میں 139 شدت پسندی کے واقعات ہوئے جس میں صرف 120 افراد ہلاک ہوئے جبکہ گزشتہ ماہ پشاور میں چرچ اور قدیمی قصہ خوانی بازار میں بم دھماکوں میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اپوزیشن کی نشاندہی کے باجود چوہدری نثار نے اپنا تحریری بیان واپس نا لیا۔
XS
SM
MD
LG