رسائی کے لنکس

'غیرت کے نام پر قتل' کے خلاف نئی قانون سازی کا خیر مقدم


فائل فوٹو

فائل فوٹو

غیر ت کے نام پر قتل کے خلاف منظور کیے گئے بل کے تحت ایسے جرائم کا نشانہ بننے والوں  کے ورثاء کا مجرم کو معافی دینے کا اختیار ختم کر دیا گیا ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق اور خواتین کی سرگرم کارکنوں کی طرف سے غیرت کے نام پر قتل اور جنسی زیادتی کے خلاف مجوزہ قوانین کی پارلیمان سے متفقہ طور پر منظوری کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں جمعرات کو غیرت کے نام پر قتل اور جنسی زیادتی کے خلاف قانون میں ترمیمی بل کی منظوری دی گئی تھی۔

غیرت کے نام پر قتل کے خلاف منظور کیے گئے بل کے تحت ایسے جرائم کا نشانہ بننے والوں کے ورثاء کا مجرم کو معافی دینے کا اختیار ختم کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل مروجہ قانون کے تحت قتل کیے جانے والے افراد کے ورثاء کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ قاتل کو معاف کر سکتے ہیں۔

اس سقم کا فائدہ اٹھاتے ہوتے اکثر مجرم سزا سے بچ جاتے تھے۔

غیرت کے نام پر قتل جیسے واقعات کے خلاف آواز بلند کرنے والی تنظمیوں کی طرف سے اس توقع کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کے لیے سخت سزاؤں کے نفاذ سے ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے گی۔

نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی سربراہ خاور ممتاز نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ "میرے خیال میں یہ بہت اہم قدم ہے۔ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور اب یہ بڑھ گئے ہیں اور زیادہ سے زیادہ بھیانک ہو گئے ہیں اور اس کے لیے قانونی چارہ جوئی کی بہت سخت ضرورت تھی اس قانون سازی سے پہلے جو قانون موجود تھا اس میں گھر والے ہی ان واقعات میں ملوث ہوتے ہیں اور وہی ایک دوسرے کو معاف کر کے بچ جاتے تو اب اس کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے اور جب قانون کا اطلاق ہو گا تو ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ کتنا کامیاب ہے۔"

تاہم انہوں نے کہا کہ یہ ایک مثبت قدم ہے اگرچہ انہوں نے کہا کہ یہ اتنا سخت قانون نہیں ہے جتنا وہ چاہتے ہیں تاہم پھر بھی ان کے بقول یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔

انسانی حقوق کے غیر سرکاری ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے شریک چئرمین کامران عارف نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں مدعی کی طرف سے معافی کے اختیار کو ختم کرنے کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔

"یہ ایک مطالبہ تھا (معاف کرنے کا اختیار ختم کر دیا جائے)کیونکہ غیر ت کے نام پر قتل کے حوالے سے پاکستان کے (موجودہ) قوانین کے تحت جوابدہی نہیں تھی بلکہ غیرت کے نام پر قتل پر ہی بلکہ خاندان کے اندر جتنے قتل ہوتے ہیں ۔۔۔اب تو جو پابندی لگائی گئی ہے کہ راضی نامہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔ یہ ضروری نہیں کہ سزائیں دی جائیں گی بلکہ یہ ہو گا کہ اب (ان مقدمات میں) بریت مشکل ہو جائے گی۔"

پارلیمنٹ نے جسنی زیادتی کے خلاف قانون سے متعلق ایک ترمیمی بل کی منظوری دی جس کے تحت اب جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کے ساتھ ملزم کا بھی ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا اور ایسے واقعات کا نشانہ بننے والی خاتون کی شناخت کو ظاہر نہیں کیا جائے گا۔

خاور ممتاز نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "یہ ڈی این اے کا (ٹیسٹ) اہم ہے کیونکہ آپ کو اکثر ایسے واقعات میں ( عینی ) شہادت نہیں ملتی اور ثبوت نہیں ملتا ہے۔ یہ ایک اہم ثبوت ہے ساری دنیا میں ہوتا ہے اور ہمارے ہاں بھی ہونا چاہیئے اور عدالتوں کو یہ شہادت قبول بھی کرنی چاہیئے۔"

جنسی زیادتی کے خلاف قانون میں شامل کی گئی دفعات میں یہ بھی کہا گیا ہے ان مقدمات کا فیصلہ 90 دن کے اندر کرنا ہو گا۔ اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر جنسی زیادتی کا واقعہ تھانے کی حدود کے اندر ہوا تو مجرم کو دوہری سزا ملے گی۔

کامران عارف نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل اور دیگر جرائم کے بارے میں قانون سازی کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، تاہم انہوں نے کہا ایسے واقعات کا ارتکاب کرنے والے افراد کے لیے سزاؤں کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کے ںظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات رپورٹ ہوں اور ان کی مناسب طریقے سے تفتیش کے ساتھ ساتھ استغاثہ کو بھی اپنا کام موثر طریقے سے انجام دینا ضروری ہو گا۔

پاکستان میں حالیہ مہینوں میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات تواتر کے ساتھ پیش آتے رہے جن کا نشانہ نا صرف خواتین بنیں بلکہ بعض واقعات میں مرد بھی ان کا نشانہ بنے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ایک ہزار سے زائد خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں۔

XS
SM
MD
LG