رسائی کے لنکس

قرارداد میں احتجاج کرنے والی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کے مطالبے کو غیر آئینی قرار دیا گیا۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں جمعہ کو آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی سے متعلق ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

قرارداد پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے پیش کی جس کے مطابق ایوان بالا آئین اور پارلیمان کی بالادستی چاہتا ہے۔

قرارداد میں احتجاج کرنے والی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کے مطالبے کو غیر آئینی قرار دیا گیا۔

ایک روز قبل ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں بھی ایسی ہی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔

عمران خان کی جماعت تحریک انصاف اور طاہر القادی کی پاکستان عوامی تحریک کے ہزاروں کارکن منگل کی رات سے پارلیمان کے باہر شاہراہ دستور پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے رکن فرحت اللہ بابر نے ایک تحریک استحقاق بھی جمع کروائی جس میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاجی دھرنے سے پیدا ہونے والی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ پارلیمنٹ پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور ایوان کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔

انھوں نے احتجاج کرنے والے قائدین کی طرف سے پارلیمان اور منتخب نمائندوں کے بارے میں ہتک آمیز زبان استعمال کرنے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

دریں اثناء جمعہ کو عدالت عظمیٰ میں دائر اُن درخواستوں کی سماعت ہوئی جن میں ممکنہ ماورائے آئین اقدام کو روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔

عدالت نے دھرنا دینے والی دونوں جماعتوں سے اس بارے میں جواب طلب کر رکھا تھا جو کہ انھوں نے جمعہ کو عدالت میں جمع کروایا۔

پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک دونوں نے اپنے جوابات میں کہا کہ احتجاج اور دھرنے کا حق آئینی ہے اور وہ کسی طور بھی غیر آئینی اقدام کی مرتکب نہیں ہو رہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کامران مرتضیٰ نے عدالت عظمیٰ کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انھوں نے بینچ کو بتایا کہ احتجاج کرنے والی جماعتوں کا اپنا آئینی حق استعمال کرنے کی وجہ سے دیگر کئی لوگوں کے آئینی حقوق متاثر ہو رہے ہیں جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

"کاروبار کرنے کا جو حق ہے، کام کرنے کا حق ہے وہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔۔۔میں نے محترم جج صاحبان کو بتایا کہ ان لوگوں نے تو سول نافرمانی کا بھی بیان دے دیا، پارلیمنٹ پر چڑھ دوڑنے کی بھی باتیں ہوئیں۔۔۔۔ان کے کہنے پر نہیں چلتا یہ بات نہیں ہوگی ہم بھی چاہتے ہیں سیاسی نظام کے بجائے قانون کی بات کریں۔"

ان کا کہنا تھا کہ وکلا برادری کسی بھی سیاسی جماعت کی طرفداری نہیں کر رہی بلکہ ان کی طرف سے دائر درخواست کا مقصد ملک میں آئین کے منافی کسی بھی اقدام کی پیش بندی کرنا ہے۔

XS
SM
MD
LG