رسائی کے لنکس

طالبان کے خلاف ٹارگیٹڈ فوجی کارروائی نہ روکی جائے: قانون ساز


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں عمران کان کا کہنا تھا کہ جو عناصر مذاکرات کو سبوتاژ کر رہے ہیں ان کے خلاف ’سرجیکل اسٹرائیکس‘ کریں لیکن جو بات کرنا چاہتے ہیں ان کی مخالف مول نا لی جائے۔

پاکستان میں شدت پسندوں کے حملوں کے بعد قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اب بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتی ہے تو ان کے خلاف ’’محدود اور ٹارگیٹڈ‘‘ فوجی کارروائیوں کو نا روکا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کو دباؤ میں رکھنے اور ان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے یہ انتہائی ضروری ہیں۔

خیبرپختونخواہ میں حکمران اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا ارادہ رکھتی ہے تو وہاں سے عام آبادی کو نکالا جائے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے حالیہ فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو عناصر مذاکرات کو سبوتاژ کر رہے ہیں، جو دہشت گردی کر رہے ہیں ان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیکس کریں لیکن جو بات کرنا چاہتے ہیں انہیں کیوں اپنے خلاف کرنا ہے۔‘‘


عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق تحریک طالبان میں شامل بڑے گروہ اب بھی مذاکرات کے حامی ہیں۔

گزشتہ ہفتے کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک کمانڈر کی طرف سے 23 سیکورٹی اہلکاروں کے قتل کے دعوے کے بعد سرکاری ٹیم نے عسکریت پسندوں سے مذاکراتی عمل جاری رکھنے سے انکار کر دیا تھا اس کے بعد ملک کے شمال مغرب میں فوجی کارروائیاں بھی کی گئیں جس میں درجنوں عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں کے دعوے کیے گئے۔

آزاد حیثیت میں منتخب سینیٹر محسن خان لغاری کہتے ہیں کہ ملک میں جاری دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکومت کو کثیر الجہتی حکمت عملی کو اپنا ہو گا جس میں شدت پسندوں کو ملنے والے مالی وسائل اور اسلحہ کی فراہمی کی راہ بھی بند کرنا ہو گی۔

’’یہ تو پتلے ہیں جو نظر آتے ہیں انہیں چلانے والے تو پیچھے بیٹھے ہیں... مذاکرات، ملٹری آپریشن (کے علاوہ) ان کے جو اسپانسر ہیں ان سے بات کرنی۔ سب کچھ ہونا چاہئے۔ اگر آپریشن ہوتا ہے تو کیا نیٹو اور آئسیف پاک افغان باڈر کو سیل کریں گے۔؟‘‘

پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے سکیورٹی عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں عسکریت پسند پاکستان یا افغانستان کے سرحدی علاقوں میں اپنی پناہ گاہوں میں چھپ جاتے ہیں جس سے ایسی کارروائیاں زیادہ سود مند ثابت نہیں ہوتیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے منگل کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں اس بات کا اعادہ کیا کہ نواز شریف انتظامیہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر پاکستان میں ہر حال میں امن لے کر آئے گی۔

’’اس میں صرف پرعزم ہونے کی ضرورت ہے۔ اپنے اندر ایک جذبہ اور جوش لانے کی ضرورت ہے۔ ہم اس ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں گے خواہ وہ کوئی بھی آپشن استعمال ہو۔ اب ایک (فیصلہ کن گھڑی) ہے اور اس میں تمام قوم کو اکٹھا ہونا ہوگا۔‘‘

بعض قانون سازوں کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کی تازہ لہر کے پیش نظر حکومت کو ایک بار پھر سیاسی قیادت کا اجلاس بلا کر اس متعلق کسی واضح حکمت عملی کا فیصلہ کرنا چاہیئے۔

پاکستان کی حکومت یہ کہتی آئی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ملک میں جاری شدت پسندی سے نمٹنا اس کی اولین ترجیح ہے مگر قیام امن کے لیے طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG