رسائی کے لنکس

الیکشن کمیشن غلط اثاثے ظاہر کرنے والے منتخب نمائندوں کے خلاف کارروائی کا اختیار رکھتا ہے لیکن ایسا نہیں کیا جاتا

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے رواں ہفتے منتخب عوامی نمائندوں کے اثاثوں کی جاری کردہ تفصیلات اور اس پورے عمل پر غیر جانبدار مبصرین کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔ ان ناقدین کے خیال میں کمیشن کے سامنے پیش کیے جانے والے اثاثے اصل حقائق کو ظاہر نہیں کرتے۔

پاکستان میں اراکین پارلیمان و صوبائی اسمبلی ہر سال اپنے اثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرنے کے پابند ہوتے ہیں اور عوامی معلومات کے لیے کتاب کی صورت میں ان کا باقاعدگی سے اجرا بھی کیا جاتا ہے۔

بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والے ادارے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان سے منسلک عادل گیلانی کا کہنا ہے کہ اثاثوں کو کم ظاہر کرنے کا ایک مقصد ٹیکس ادائیگی سے بچنا بھی ہوتا ہے اور ان کے بقول یہ امر بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن غلط اثاثے ظاہر کرنے والے منتخب نمائندوں کے خلاف کارروائی کا اختیار رکھتا ہے لیکن ایسا نہیں کیا جاتا۔ عادل گیلانی نے بتایا کہ ملک میں ٹیکس اکٹھا کرنے کے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ’ایف بی آر‘ کو ان اثاثوں کی تفصیلات کی جانچ پڑتال کا اختیار دیا جانا چاہیئے۔

’’ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ پکڑ دھکڑ ہو، بلکہ (اگر اثاثے) بڑھے ہیں تو ان پر ٹیکس ادا کیا گیا ہے یا نہیں، تو یہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔ جب ایف بی آر ان کی جانچ پڑتال کرے گا تو اثاثوں کا حقیقی ہونا بھی ثابت ہو جائے گا۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ اثاثوں کی تفصیلات جمع کر کے ان کے اجرا کا سارا عمل بظاہر تو بے سود لگتا ہے۔ ’’لیکن یہ پتہ چلا ہے کہ پاکستان میں پارلیمنٹیرین کے اثاثے اوسطاً چار گنا بڑھ گئے ہیں، جب کہ ملک کی معیشت میں تو اتنی بہتری نہیں آئی ہے۔‘‘

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اثاثوں کی تفصیلات کے مطابق حکمران پیپلز پارٹی کے پشاور سے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان پارلیمان کے امیر ترین رکن ہیں اور ان کی املاک کی مالیت 32 ارب روپے ہے، جب کہ پیپلز پارٹی سے ہی تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی اثاثوں کے اعتبار سے سب سے غریب رکن ہیں جن کے پاس نا گھر ہے نا زمین۔

الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی اثاثوں کی تفصیلات میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنی املاک تو ظاہر کیں لیکن ان دونوں سیاسی شخصیات کے پاس کوئی ذاتی گاڑی نہیں ہے۔ جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ ایسے عوامی نمائندے جن کے اثاثے ان کی طرز زندگی سے مطابقت نہیں رکھتے الیکشن کمیشن کو خود ان کی جانچ پڑتال کرنی چاہیئے۔

احمد بلال محبوب

احمد بلال محبوب

لیکن وزیراعظم یا دیگر حکومتی عہدیداروں کے پاس گاڑی نا ہونے کے بارے میں احمد بلال محبوب کہتے ہیں۔

’’مثال کے طور وزیراعظم کے اپنے نام کوئی گاڑی نہیں ہے۔ پچھلے چار سال سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ ان کے پاس ہے تو وہ اپنی ذاتی گاڑی کیوں رکھیں گے جب کہ انھیں تمام سرکاری سہولتیں میسر ہیں۔ اس لیے ضروری نہیں کہ ان کا یہ بیان غلط ہو(کہ ذاتی گاڑی نہیں ہے) وہ صیحح بھی ہو سکتا ہے۔‘‘

احمد بلال محبوب نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اثاثوں کو سہل انداز میں شائع کرنا چاہیئے تاکہ ان کے حلقے کے عوام بھی اپنے منتخب نمائندوں کے بارے میں جان سکیں۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اثاثوں کی تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی نے اپنے اثاثہ جات کی کل مالیت تو نہیں بتائی لیکن انھوں نے املاک میں زرعی فارم ہاؤس،670 کنال زرعی اراضی، مکان، پلاٹ، فلیٹ اور بینک اکاؤنٹس میں 81 لاکھ روپے جب کہ اپنی اہلیہ کے نام 328 کنال زمین کے علاوہ بچوں کے نام جائیداد بھی ظاہر کی ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG