رسائی کے لنکس

برہان الدین ربانی کی ہلاکت پر افغان قیادت سے اظہار تعزیت

  • یاسر منصوری

برہان الدین ربانی کی ہلاکت پر افغان قیادت سے اظہار تعزیت

برہان الدین ربانی کی ہلاکت پر افغان قیادت سے اظہار تعزیت

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جمعرات کو کابل کا مختصر دورہ کیا جہاں اُنھوں نے اپنے وفد کے ہمراہ افغان صدر حامد کرزئی اور پروفیسر برہان الدین ربانی کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کی منگل کو خودکش حملے میں ہلاکت سے ’’پاکستان ایک دوست اور افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں ایک حقیقی شراکت دار سے محروم ہو گیا ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اپنے افغان بہن بھائیوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، اور اعلیٰ امن کونسل کے سربراہ کی ہلاکت سے مفاہمت کی کوششیں بھی متاثر ہوئی ہیں لیکن اُن کے بقول اس واقعہ سے دہشت گردی کے خلاف دونوں ملکوں کا عزم کمزور نہیں ہوگا۔

تہمینہ جنجوعہ کا کہنا تھا کہ اعلیٰ امن کونسل افغانستان میں ایک نمائندہ ادارہ ہے جس میں شامل مختلف افغان دھڑوں کے نمائندوں نے ملک میں امن و مصالحت کو فروغ دینے کا پختہ عزم کر رکھا ہے۔

دریں اثنا افغان صدر حامد کرزئی نے جمعرات کو کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ برہان الدین ربانی کو ہلاک کرنے والے خودکش بمبار نے مقتول سابق صدر تک رسائی حاصل کرنے کے لیے افغان عہدے داروں کو طالبان کا ایک جعلی آڈیو پیغام پہنچایا تھا جس میں کونسل کو امن کی پیشکش کی گئی تھی۔

پروفیسر ربانی کو گزشتہ سال صدر کرزئی نے اعلیٰ امن کونسل کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا کیونکہ افغان جہادی گرپوں میں وہ ایک قابل احترام شخصیت سمجھے جاتے تھے، جب کہ پاکستان میں بھی اُنھیں بعض مذہبی جماعتوں اور حکومتی حلقوں کی حمایت حاصل تھی۔

کونسل کی سربراہی سنبھالنے کے بعد پروفیسر ربانی نے تواتر سے پاکستان کے دو دورے کیے اور جون میں اُن کے آخری دورے میں طالبان سے رابطے کے لیے پاکستانی اور افغان سول و عسکری عہدے داروں پر مشتمل ایک کمیٹی کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG