رسائی کے لنکس

بوقت ضرورت مذاکراتی پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ


وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان

چودھری نثار نے کہا کہ وزیرٕ اعظم نواز شریف کی وطن واپسی پر صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے گا، جب کہ حکمران مسلم لیگ (ن) دیگر جماعتوں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خان نے تشدد کے حالیہ واقعات کو شدت پسندوں سے مذاکرات کی کوششوں میں ’’خلل‘‘ قرار دیتے ہوئے مستقبل قریب میں قومی حکمتِ عملی کے از سر نو جائزے کا عندیہ دیا ہے۔

اسلام آباد کے دورے پر آئی ہوئی اپنی برطانوی ہم منصب تھیریسا مے سے مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ چودھری نثار کا کہنا تھا کہ حالیہ کل جماعتی کانفرنس میں طالبان جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات سے متعلق فیصلہ اُس وقت کی زمینی صورت حال کو مدِ نظر رکھ کر کیا گیا۔

’’حال ہی میں رونما ہونے والے واقعات اس سلسلے میں کسی حد تک الجھن کا باعث بنے ہیں لیکن یہ معاملات ایسے نہیں جن کی وجہ سے پالیسیوں کو تبدیل کر دیا جائے یا ان میں روزانہ کی بنیاد پر یا پھر ایک واقعہ کی وجہ سے رد و بدل کر دی جائے۔‘‘

چودھری نثار نے کہا کہ وزیرٕ اعظم نواز شریف کی وطن واپسی پر صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے گا، جب کہ حکمران مسلم لیگ (ن) دیگر جماعتوں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔

’’جب حکمتِ عملی میں تبدیلی کی ضرورت ہو گی، بلا شبہ صحیح وقت پر ایسا کیا جائے گا۔‘‘

وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں نو ستمبر کو سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے حکومت کو شدت پسندوں سے مذاکرات کا لائحہ عمل وضع کرنے اور دیگر اقدامات کا اختیار دیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں پاکستان کی عسکری قیادت بھی شریک تھی۔

تاہم حکومت کی طرف سے شدت پسندوں سے مذاکرات کے حق میں فیصلے کے باوجود ملک میں دہشت گرد حملے جاری ہیں، جن میں شمال مغربی ضلع دیر میں بری فوج کے میجر جنرل ثنا اللہ کی ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں ہلاکت اور بعد ازاں پشاور میں گرجا گھر پر دو خود کش بمباروں کا حملہ نمایاں ہیں۔

پشاور حملے میں کم از کم 83 افراد کی ہلاکت کے بعد حکومت پر اس دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ کیا دہشت گرد حملوں کے باوجود شدت پسندوں سے مذاکرات کی کوششیں جاری رکھی جا سکتی ہیں۔
XS
SM
MD
LG