رسائی کے لنکس

'پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں سے لاتعلق نہیں رہ سکتے'


فائل فوٹو

فائل فوٹو

صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ خطے میں قیام امن کے لیے کشمیر سمیت تمام متنازع مسائل کا بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل ضروری ہے اور ان کا ملک اس کا خواہاں ہے۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے غیر ملکی مداخلت، خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ اور غیر اعلانیہ جنگوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے لا تعلق نہیں رہا جا سکتا۔

ہفتہ کو پاکستانی فوج کی مرکزی تربیت گاہ کاکول میں فارغ التحصیل ہونے والے افسران سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خطے میں قیام امن کے لیے کشمیر سمیت تمام متنازع مسائل کا بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل ضروری ہے اور ان کا ملک اس کا خواہاں ہے۔

"پاکستان اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات کا خواہشمند ہے۔ اس سلسلے میں ہماری دفاعی صلاحتیں خطے میں امن و خوشحالی کی ضامن ہیں، لیکن پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے غیر ملکی مداخلت اور خطے میں ایٹمی و روایتی ہتھیاروں کی دوڑ اور غیر اعلانیہ جنگوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے ہم لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ اس لیے ہم آنے والی نسلوں کے تحفظ اور عالمی و علاقائی امن کے لیے اس رجحان کا خاتمہ چاہتے ہیں۔"

صدر ممنون نے اپنے خطاب میں کسی ملک کا نام تو نہیں لیا لیکن پاکستان یہ الزام عائد کرتا ہے کہ پڑوسی ملک بھارت کی خفیہ ایجنسی "را" پاکستان میں عدم استحکام کی کارروائی میں ملوث ہے۔

گزشتہ ماہ ہی بلوچستان سے ایک بھارتی شہری کلبھوشن یادوو کو گرفتار کیا گیا تھا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ "را" کا ایجنٹ ہے اور پاکستانی مفادات کے خلاف کام میں مبینہ طور پر ملوث ہے۔

بھارت اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اپنے ہاں دہشت گرد کارروائیوں کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتا ہے جسے اسلام آباد رد کرتا آیا ہے۔

صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کی خواہش کے باوجود ضروری ہے کہ مخصوص حالات کے تناظر میں ان کا ملک اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرے۔

"ہم چاہتے ہیں کہ تمام متنازع مسائل پرامن بقائے باہمی کے جذبے کے تحت مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔ مسائل کے پرامن حل کی خواہش کے باوجود خطے کے مخصوص حالات کے پیش نظر ضروری ہے کہ ہم محتاط رہیں اور اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کریں۔"

انھوں نے اس موقع پر دہشت گردوں کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ آپریشن جاری رہے گا تاکہ ان کے بقول خطے سمیت دنیا کے امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

XS
SM
MD
LG